مائیکروسافٹ کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں عمومی معالجین سے دو گنا سے زیادہ درست ثابت ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ نظام مریض کی علامات کا جائزہ لینے، طبی تاریخ سے متعلق سوالات کرنے اور ضروری ٹیسٹ تجویز کرنے کے بعد مرحلہ وار تشخیص تک پہنچتا ہے۔
مزید پڑھیں:کینسر کی تشخیص سے علاج تک، کراچی کے جناح اسپتال میں مصنوعی ذہانت کیسے مددگار ثابت ہورہی ہے؟
اس نظام کو ڈائیگناسٹک آرکیسٹریٹر کہا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کے مختلف ماڈلز کو ایک فرضی طبی ٹیم کی طرح مربوط کرتا ہے، جو مریض کی معلومات کا تجزیہ کرنے، ممکنہ بیماریوں پر غور کرنے اور مزید معائنے یا ٹیسٹ تجویز کرنے میں تعاون کرتے ہیں۔ روایتی مصنوعی ذہانت کے بیشتر نظام اس کے برعکس دستیاب معلومات کا بیک وقت جائزہ لے کر تشخیص پیش کرتے ہیں۔
تحقیق میں 300 سے زیادہ پیچیدہ اور غیر معمولی طبی کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق مصنوعی ذہانت کا یہ نظام ان کیسز کی تشخیص میں عمومی معالجین سے نمایاں طور پر بہتر رہا۔ محققین نے ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے مریضوں کے ڈیٹا پر بھی نظام کی کارکردگی جانچی، جہاں اس نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں بہتر نتائج دیے۔
Microsoft’s AI panel just beat generalist doctors 83% to 36% on 304 complex medical case records 😳
But there’s a catch… 👀
#AI #Microsoft #AIAgents #AgenticAI #HealthcareAI #MedicalAI https://t.co/IbR695idLd
— AI_boy (@ai_boat1) October 23, 2026
محققین کے مطابق اس نظام کی مدد سے تشخیصی عمل کی لاگت بھی کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، تحقیق کے نتائج کو حقیقی طبی ماحول میں مؤثر ثابت کرنے کے لیے مزید آزمائشیں ضروری ہیں۔ مائیکروسافٹ اب بوسٹن کے بیت اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر کے اشتراک سے ایمرجنسی وارڈ کے انتظار گاہوں میں مریضوں کی ابتدائی درجہ بندی کے لیے اس ٹیکنالوجی کی جانچ کرے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بیماریوں کی تشخیص میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشان دہی کرتی ہے، تاہم فی الحال اسے ڈاکٹروں کا متبادل قرار دینے کے بجائے طبی فیصلوں میں معاون ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔











