وفاقی حکومت تعمیراتی شعبے میں اصلاحات، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار بہتر بنانے کے لیے 2 ریگولیٹری ادارے قائم کرنے اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے کم از کم 3 سالہ ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم منصوبوں کی مالیت کی وہ حد مقرر کرنے پر حکومت اور تعمیراتی صنعت کے درمیان اختلاف ہے جس پر تنازعات سے بچاؤ اور حل کا مجوزہ نظام لاگو ہوگا۔
تعمیراتی شعبے کے لیے ایک یا 2 ادارے بنانے پر غور
تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق ابتدائی مشاورتی اجلاس وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی صدارت میں ہوا، جس میں مجوزہ ادارہ جاتی ڈھانچے، منصوبوں کی تکمیل میں بہتری اور صنعت کو درپیش اہم مسائل پر غور کیا گیا۔
تعمیراتی شعبے میں اصلاحات، نقائص کی ذمہ داری کی مدت تین سال یا زائد مقرر کرنے کی تجویز!
وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری کے فروغ، منصوبوں پر عمل درآمد بہتر بنانے اور تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے بڑے منصوبوں کے لیے نقائص کی ذمہ داری کی مدت (Defect Liability Period) تین سال یا اس سے زائد مقرر کرنے کے لیے پیپرا کو کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت میں اضافے سے ٹھیکیدار معیاری کام کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ مرحلہ وار اس کا اطلاق چھوٹے منصوبوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں تعمیراتی شعبے کے فروغ اور ریگولیٹری امور کے لیے ایک یا دو الگ ادارے قائم کرنے، ٹھیکیداروں کی ضمانتی رقوم منافع بخش کھاتوں میں رکھنے اور مقررہ مدت کے بعد منافع سمیت واپس کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔
احد چیمہ نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ڈسپیوٹ اوائڈنس/ایڈجوڈیکیشن بورڈ (DAB) کے طریقۂ کار کو 20 ارب روپے سے کم لاگت کے منصوبوں پر بھی لاگو کرنے کے حوالے سے مزید مشاورت کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیراتی شعبے کو مضبوط بنانے اور منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ آئندہ فریم ورک کی تیاری میں بین الاقوامی فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینئرز (FIDIC) کے قواعد و معیار سے بھی رہنمائی لی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) محمد محمود، ایم ڈی پیپرا، پلاننگ کمیشن اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP) کے حکام نے شرکت کی۔
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 28, 2026
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری ہاؤسنگ ریٹائرڈ کیپٹن محمد محمود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے 160 ارب روپے منظور، طارق فضل چوہدری
اجلاس میں مجوزہ ’کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل‘پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ احد چیمہ نے زور دیا کہ بل کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
شرکا نے اس امکان پر غور کیا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ایک ہی ادارہ قائم کیا جائے یا 2 الگ ادارے بنائے جائیں، جن میں سے ایک شعبے کی نگرانی اور ضابطہ کاری جبکہ دوسرا تعمیراتی صنعت کے فروغ اور متعلقہ امور کا ذمہ دار ہو۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی قیادت میں متعلقہ سرکاری اداروں اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری رکھی جائے گی تاکہ مجوزہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید بہتر اور قابل عمل بنایا جا سکے۔
بڑے منصوبوں کے لیے 3 سالہ ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ
حکومت نے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے کم از کم 3 سال یا اس سے زیادہ مدت کا ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ متعارف کرانے پر کام شروع کیا جائے۔ اس نظام کو مرحلہ وار چھوٹے منصوبوں تک بھی توسیع دینے کی تجویز ہے۔
ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ سے مراد وہ مقررہ مدت ہے جس کے دوران ٹھیکے دار تعمیراتی منصوبے میں سامنے آنے والی خامیوں اور نقائص کے حوالے سے طے شدہ شرائط کے تحت ذمہ دار رہتا ہے۔
مزید پڑھیں:مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط سامنے آگیا
اس اقدام کا مقصد تعمیراتی کام کے معیار کو بہتر بنانا اور منصوبے مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی خامیوں کے ازالے کے لیے ذمہ داری کا واضح طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
20 ارب روپے کے منصوبوں پر تنازعات کے حل کا نظام
اجلاس میں سرکاری منصوبوں کے لیے موجودہ ’ڈسپیوٹ اوائڈنس اینڈ ایڈجوڈیکیشن بورڈ‘کا طریقہ کار متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا۔
اس نظام کے تحت ایک بورڈ منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا اور تنازعات پیدا ہونے کی صورت میں انہیں ابتدا ہی میں روکنے یا حل کرنے میں مدد دے گا، تاکہ اختلافات منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں۔
کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے تجویز دی کہ یہ نظام 20 ارب روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے منصوبوں پر لاگو کیا جائے۔
تاہم، احد چیمہ نے اس حد کو کم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ فریقوں کو مزید مشاورت کی ہدایت کی، تاکہ منصوبوں کی مالیت کے حوالے سے مناسب حد مقرر کی جا سکے۔
اس معاملے پر حکومت اور تعمیراتی صنعت کے درمیان اتفاق رائے تاحال نہیں ہو سکا، جبکہ حتمی حد کا تعین مزید مشاورت کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔
ٹھیکے داروں کی جمع شدہ رقم پر منافع دینے کی تجویز
اجلاس میں ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ کے دوران ٹھیکے داروں سے بطور ضمانت روکی جانے والی رقم کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجویز زیر غور آئی کہ ٹھیکیداروں کی یہ رقوم ایسے اکاؤنٹس میں رکھی جائیں جہاں ان پر منافع حاصل ہو سکے، اور مقررہ مدت مکمل ہونے پر اصل رقم کے ساتھ حاصل ہونے والا منافع بھی ٹھیکے داروں کو واپس کر دیا جائے۔
مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن کا نگراں مشیر احمد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، فواد حسن کا فیصلہ 21 دسمبر کو ہوگا
احد چیمہ نے اس تجویز پر مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک قابل عمل طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی۔
مجوزہ طریقہ کار کا مقصد ضمانتی رقوم کے انتظام کو بہتر بنانا اور مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد ٹھیکے داروں کو اصل رقم اور منافع کی ادائیگی کے لیے واضح نظام وضع کرنا ہے۔
بین الاقوامی تعمیراتی معیارات سے رہنمائی لی جائے گی
حکومت تعمیراتی شعبے کے لیے مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک تیار کرتے ہوئے انٹرنیشنل فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینیئرز (ایف آئی ڈی آئی سی) کے قواعد اور معیارات سے بھی رہنمائی لے گی۔
احد چیمہ نے زور دیا کہ تعمیراتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، معاہدوں اور عمل درآمد سے متعلق نظام کی تشکیل میں ان بین الاقوامی معیارات کو اہم حوالہ بنایا جائے۔
اس اقدام کا مقصد تعمیراتی منصوبوں کے انتظام، معیار اور تنازعات سے نمٹنے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے ایک واضح اور معیاری فریم ورک تیار کرنا ہے۔
اگست میں بھی تعمیراتی شعبے کے لیے جامع پیکیج پر غور سامنے آیا تھا
اس سے قبل اگست میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت تعمیراتی صنعت کو فعال بنانے کے لیے ایک جامع پیکیج پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد ضابطہ جاتی پیچیدگیاں کم کرنا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور ادارہ جاتی معاونت کو مضبوط بنانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مویشیوں کی ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری، وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ہدایات جاری کردیں
مجوزہ پیکیج میں ’کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ‘ (سی آئی ڈی بی) کے قیام، تعمیراتی شعبے کے لیے مخصوص ’کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ بینک‘ (سی ڈی بی) کے امکان کا جائزہ لینے، درآمدات اور برآمدات کی پالیسیوں کو معقول بنانے اور تعمیراتی صنعت کے لیے ہدفی ٹیکس اصلاحات جیسے اقدامات شامل تھے۔
حالیہ اجلاس میں زیر بحث تجاویز اسی وسیع تر اصلاحاتی کوشش کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے تعمیراتی شعبے کے لیے ضابطہ جاتی نظام بہتر بنانے، منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کی نگرانی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم مجوزہ اتھارٹیز کے حتمی ڈھانچے، ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ کے اطلاق اور تنازعات کے حل کے نظام کے لیے منصوبوں کی مالیت کی حد جیسے اہم معاملات پر مزید مشاورت درکار ہے۔









