پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کے سفری اخراجات بڑھا دیے ہیں جس کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو آمدورفت کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے سستی سواریوں کا رخ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، لڑکی کو ہراساں کرنے والا آن لائن موٹر سائیکل رائیڈر گرفتار، مقدمہ درج
ابتدائی طور پر لوگوں نے الیکٹرک بائیکس کی طرف توجہ دی۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ملک میں الیکٹرک اسکوٹیز اور بائیکس کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں ملک بھر میں تقریباً 2 ہزار الیکٹرک بائیکس فروخت ہوئی تھیں جبکہ سال 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ان کی فروخت میں تقریباً 180 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
الیکٹرک بائیک چلانے کا خرچ پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل کے مقابلے میں کافی کم ہے جس کے باعث ان کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم الیکٹرک بائیکس کی قیمتیں بھی بہت سے شہریوں کے بجٹ سے باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر فاصلے طے کرنے والے افراد، طلبہ، مزدوروں اور کم آمدنی والے طبقے نے روایتی سائیکل کو ترجیح دینی شروع کردی ہے۔
سائیکل نہ صرف ایندھن کے بغیر چلتی ہے بلکہ اس کی خریداری اور دیکھ بھال پر بھی نسبتاً کم خرچ آتا ہے۔
مزید پڑھیے: ویڈیو: لاہور میں اسکوٹی سوار لڑکی پر بدترین تشدد، ناک کی ہڈی توڑ دی، ملزم گرفتار
پیٹرول کی مہنگائی کے بعد سائیکل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اب زیادہ سے زیادہ شہری روزمرہ کے مختصر سفر کے لیے سائیکل استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث سڑکوں پر سائیکلوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
تاہم سائیکلوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ لاہور میں ان کی چوری کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے 209 سائیکلیں چوری ہوئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں سائیکل چوری کے 158 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس طرح سائیکل چوری کی وارداتوں میں تقریباً 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
لاہور کے کن علاقوں میں سائیکل چوری کے واقعات زیادہ ہوئے؟
ڈویژن وار اعداد و شمار کے مطابق سٹی ڈویژن میں سائیکل چوری کے واقعات گزشتہ سال کے 10 کے مقابلے میں رواں سال بڑھ کر 29 ہوگئے۔ اسی طرح کینٹ ڈویژن میں گزشتہ سال 46 کے مقابلے میں رواں سال 70 سائیکل چوری کے مقدمات درج کیے گئے۔
سول لائنز ڈویژن میں یہ تعداد 17 سے بڑھ کر 18 ہوگئی جبکہ صدر ڈویژن میں گزشتہ سال کے 30 کے مقابلے میں رواں سال 40 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں دونوں سالوں کے دوران سائیکل چوری کے 30، 30 مقدمات درج ہوئے جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں گزشتہ سال 25 کے مقابلے میں رواں سال 22 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
پولیس کا شہریوں کو احتیاط کا مشورہ
پولیس کا کہنا ہے کہ سائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سائیکل کو لازمی تالا لگائیں اور اسے کسی محفوظ جگہ پر کھڑا کریں تاکہ چوری سے بچایا جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق سائیکل چور گروہ کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں غیر ملکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے 3 جعلی کال سینٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار
تاہم پیٹرول کی مہنگائی سے پہلے ہی متاثر غریب اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سائیکل کی چوری ایک نئی پریشانی بن گئی ہے۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پولیس نگرانی کا نظام بہتر بنائے اور سائیکل چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ عام آدمی کے لیے آمدورفت کا یہ سستا ذریعہ بھی محفوظ بنایا جاسکے۔










