تجاوزات کے خلاف آپریشن کا دباؤ، پشاور کے تاجروں نے خود ہی تجاوزات ہٹانا شروع کر دیں

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا آپریشن جاری ہے، جس کے پیش نظر اندرون شہر اور کینٹ کے مختلف علاقوں میں دکانداروں اور شہریوں کو 3 روزہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے دی گئی مہلت کے بعد دکانداروں نے ممکنہ کارروائی اور مالی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت تجاوزات ہٹانا شروع کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں:پشاور میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے، صرف 23 ہزار رجسٹرڈ، دیگر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اندرون شہر سمیت مختلف علاقوں میں تجاوزات کی بھرمار ہے، جن کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ شہر کی سرکاری زمین کا ایک ایک انچ واگزار کرایا جائے گا، جبکہ پشاور کو دوبارہ خوبصورت اور پھولوں کا شہر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب انتظامیہ کے نوٹسز کے بعد اندرون شہر کے دکانداروں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانوں کے باہر قائم تجاوزات ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے پہلے نوٹسز جاری کیے اور زبانی طور پر بھی نشاندہی کی کہ کون سی جگہ تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے، جس کے بعد انہوں نے خود تجاوزات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سرکاری آپریشن کے دوران بھاری مالی نقصان سے بچ سکیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دکانداروں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کارروائی سے پہلے نوٹس دے کر تجاوزات ختم کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان کی غلطی ہے، وہاں سے تجاوزات خود ہٹانے کے لیے تیار ہیں، تاہم انتظامیہ کو چاہیے کہ شہر کے تمام علاقوں میں یکساں پالیسی اپنائی جائے اور ہر تاجر کو پہلے نوٹس دے کر اپنا مؤقف پیش کرنے اور تجاوزات ختم کرنے کا موقع دیا جائے۔

مزید پڑھیں:خدشات سے صارفین کے اعتماد تک، پشاور کی نایاب کا منفرد سفر

دکانداروں کے مطابق اگر حکومت سرکاری زمین واگزار کرانا چاہتی ہے تو تاجر برادری اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے، کیونکہ وہ بھی اسی شہر اور مٹی کا حصہ ہیں۔ تاہم زور زبردستی کے بجائے باہمی تعاون اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جائیں تاکہ تاجروں کو غیر ضروری نقصان نہ اٹھانا پڑے اور عوام میں نفرت پیدا ہونے کے بجائے انتظامیہ پر اعتماد بڑھے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اگر تعاون کا راستہ اختیار کریں گی تو تاجر بھی تجاوزات کے خاتمے اور شہر کی بہتری کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہباز شریف کا آئی کیو آئزک نیوٹن کے قریب، حذیفہ رحمان نے سوشل میڈیا پر پنڈورا باکس کھول دیا

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز، انتخابی نشان خطرے میں پڑگیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہ اٹک، 23 ارب روپے کے 59 روڈز اور 127 میگا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

بالی ووڈ اداکار تشار کپور بھی بھتہ خوروں کے نشانے پر، 5 کروڑ روپے نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکی

ٹرمپ اقتدار کے آخری مرحلے میں مزید جارحانہ ہوسکتے ہیں، تجزیہ کاروں کا انتباہ

ویڈیو

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کشمور کے 12 لاکھ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، کروڑوں روپوں کے فلٹر پلانٹس بند، نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

وسطی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی نئی راہ، خضدار میں 2 ارب 84 کروڑ روپے سے جنرل یونیورسٹی قائم

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا