انتخابی نتائج کے مطابق پہلی بار امریکی تاریخ میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین بیک وقت ایوانِ نمائندگان کی رکن بننے جا رہی ہیں، جسے امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والی رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ خواتین نے اپنے ووٹوں سے تاریخ رقم کی، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کو ایوانِ نمائندگان میں منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امیگریشن فراڈ تحقیقات کے باوجود الہان عمر پانچویں بار امریکی کانگریس کی رکن منتخب
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ری پبلکنز کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا خواتین نے کیا، تاہم حالیہ انتخابات میں انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے مطمئن نہیں ہیں۔
ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے انتخابی ونگ ’الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن‘ نے انتخابی مہم کے آغاز ہی سے 100 خواتین کی کامیابی کو اپنا ہدف بنایا تھا۔
Women will lead more states as governors and represent more congressional districts than at any time in American history come January.
In the House, Democratic women surged past 100 seats — but Republican women lost ground: https://t.co/rJpT5Vobjc
— Mariana Alfaro (@marianaa_alfaro) November 4, 2026
فلوریڈا سے رکنِ کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل کے مطابق 100 خواتین کا ایوان میں پہنچنا ایک اہم علامتی کامیابی ہے، اگرچہ جماعت کی خواہش اس سے بھی زیادہ خواتین کو منتخب کرانے کی ہے۔
اس تاریخی پیش رفت کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، امیدواروں کی تیاری اور انتخابی فنڈز جمع کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
ایملی لسٹ سمیت مختلف تنظیموں نے ڈیموکریٹ خواتین کو انتخابی میدان میں آگے بڑھانے اور کامیاب مہمات چلانے میں مدد فراہم کی۔
مزید پڑھیں: غزہ میں زخمیوں کا علاج کرنے والے سرجن آدم حموی امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب
ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر نے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ کامیاب انتخابی مہمات چلا سکتی ہیں۔
حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے حاصل کی گئی 40 نشستوں میں سے 18 پر خواتین امیدوار کامیاب ہوئیں۔
ان کامیابیوں میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور بدعنوانی کے تاثر پر ووٹرز کی ناراضی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

کچھ خواتین امیدواروں نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی، جارجیا کی نومنتخب رکن جیسمین کلارک، کولوراڈو کی میلات کیروس اور نیویارک کی داریا لیزا اویلا شیوالیے ان میں شامل ہیں۔
جیسمین کلارک کانگریس میں پہلی سیاہ فام خاتون پی ایچ ڈی سائنس دان ہوں گی، جبکہ میلات کیروس کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور کانگریس کی پہلی جنریشن زی خاتون رکن بنیں گی۔
واضح رہے کہ خواتین امریکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، تاہم کانگریس میں ان کی نمائندگی اب بھی صرف 28 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں: ’فلسطین سے ایران تک ہمارے بم معصوم خواتین اور بچوں کو مار رہے ہیں‘، امریکی رکن کانگریس
1917 میں جینیٹ رینکن کانگریس کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئی تھیں، اس کے بعد خواتین نے سیاسی نمائندگی اور مساوی سہولیات کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی متوقع کامیابی امریکی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں خواتین کی نمائندگی بڑھنے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔











