آزاد کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں سے غیرقانونی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کردی، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور متعدد مسلح افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق شہریوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے غیرقانونی رکاوٹیں ہٹانے کے اقدامات کیے جارہے تھے کہ اس دوران فساد پھیلانے والے مسلح افراد نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ دوسری جانب جھڑپ میں کئی مسلح افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ میں 3 گھنٹے فائرنگ کرنے والے پرامن احتجاج کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں؟ وزیراعظم آزاد کشمیر
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ وہی مقام ہے جہاں سے چند روز قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکرم کو اغوا کیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا مہم چلائے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور صورت حال کو مزید کشیدہ کرنا ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرمصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں، جبکہ ایسی اطلاعات آگے پھیلانے سے بھی گریز کریں۔
پریس ریلیز کے مطابق عوامی راستوں کی بحالی، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے تعاون جاری رکھیں گے، تاکہ راولا کوٹ میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکے۔











