قومی اسمبلی کے 30ویں اجلاس کی رپورٹ جاری کردی گئی، 13 اکتوبر سے 30 اکتوبر تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران ریکارڈ 24 بلز منظور کیے گئے، جن میں 17 حکومتی اور 7 نجی ارکان کے بل شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منظور کیے گئے حکومتی بلز میں سے 7 سینیٹ جبکہ 10 صدر مملکت کو توثیق کے لیے بھجوائے گئے۔ اسی طرح نجی ارکان کے بلز میں سے 5 سینیٹ اور 2 صدر مملکت کو منظوری کے لیے ارسال کیے گئے۔
اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 16 بلز ایوان میں پیش کیے گئے، جن میں 9 حکومتی اور 7 نجی ارکان کے بل شامل تھے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی تشکیل کے لیے تحریک بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی، جبکہ اجلاس میں 3 قراردادوں کی منظوری بھی دی گئی۔
رپورٹ میں قانون سازی کے عمل میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کردار کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ اسپیکر نے عوامی مفاد کی قانون سازی کو ترجیح دی اور قانون سازی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس منعقد کرائے، جن میں پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں، متعلقہ وزارتوں کے افسران اور اسمبلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں متعلقہ وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریوں کی حاضری یقینی بنائی گئی۔ وقفہ سوالات اور توجہ مبذول کرانے کے نوٹسز کے دوران متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران بھی اسپیکر کی ہدایت پر گیلری میں موجود رہے۔
مزید پڑھیں:اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے
رپورٹ کے مطابق متعلقہ وزارتوں کے وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریوں نے ارکان اسمبلی کے 298 سوالات کے جوابات دیے۔ 17 توجہ مبذول کرانے کے نوٹسز میں سے 15 کے جوابات حکومتی وزرا یا پارلیمانی سیکریٹریوں نے دیے، جبکہ 2 نوٹسز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیے گئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کا ماحول خوشگوار رکھنے کے لیے تمام جماعتوں کو نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کا موقع بھی فراہم کیا۔











