افریقی ملک یوگنڈا میں حکومت اور فوجی قیادت پر سوشل میڈیا کے ذریعے تنقید کرنے والے شہریوں کو مبینہ طور پر گرفتاریوں، دھمکیوں اور اغوا جیسے واقعات کا سامنا ہے۔ متاثرہ افراد اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آن لائن اظہارِ رائے کرنے والوں کو خاموش کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، جبکہ بعض لاپتا افراد کے اہل خانہ کو اپنے پیاروں کے بارے میں بھی معلومات نہیں مل رہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 26 ستمبر کو گرفتار ہونے والی پرائس الوکین اوپولوجے پر اپنی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرکے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے الزام مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر یوویری موسیوینی کے بیٹے اور فوجی سربراہ جنرل موہوزی کینیروگابا کے خلاف ویڈیو بیان جاری کرنے کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سابق صحافی یوگنڈا کی تورو سلطنت کے 13ویں بادشاہ بن گئے
اوپولوجے نے دعویٰ کیا کہ پولیس اسٹیشن بلانے کے بعد 6 افراد نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا، تشدد کیا اور جنسی زیادتی کی دھمکیاں دیں۔ ان کے مطابق 14 اکتوبر کو انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا، تاہم ان کی والدہ کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹ میں 17 سالہ ولیم بالیزا کی گمشدگی کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے والد ایمانوئل کا کہنا ہے کہ فوجی وردیوں میں ملبوس افراد ان کے بیٹے کو گھر سے لے گئے، کیونکہ وہ پولیس تشدد اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنا چاہتا تھا۔ اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ اسے اینٹبے کے قریب کسی فوجی حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے، تاہم حکام نے اس کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔
صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن اینڈریو تابونداما ناتومانیہ نے بھی الزام لگایا کہ سیکیورٹی اداروں سے متعلق خبریں شائع کرنے پر انہیں اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 5 روز حراست میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس حذف نہیں کریں گے بلکہ حقائق سامنے لانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:یوگنڈا سے واپس آنے والی سفارتکار کی اہلیہ میں ایبولا وائرس کی تصدیق، نائیجیریا میں 44 افراد زیرِ نگرانی
انسانی حقوق کے وکیل اسٹیون اتوکواتسے کے مطابق نومبر 2025 سے اب تک وہ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے افراد کے 12 مقدمات دیکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد رہائی کے بعد بھی مقدمات کے باعث قانونی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوپاتے۔











