مصنوعی ذہانت سے لیس سمندری بوائے، نایاب وہیلز کو جہازوں سے بچانے کے لیے سرگرم

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سمندری جہازوں کے شور اور ٹکراؤ سے خطرے میں گھری نایاب وہیلز کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس جدید نظام متعارف کرا دیا گیا۔ امریکی ریاست واشنگٹن کے ساحلی علاقے میں نصب ایک خصوصی سمندری بوائے زیرِ آب آوازوں کی مدد سے وہیلز کی موجودگی کا پتا لگائے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اس منصوبے کا مقصد جنوبی رہائشی کلر وہیلز (Southern Resident Killer Whales) کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا اور جہازوں کو ان کی موجودگی سے بروقت آگاہ کرکے ممکنہ تصادم سے بچانا ہے۔ یہ وہیلز کی ایک نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار آبادی ہے، جس کے صرف 76 ارکان باقی رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:کیلیفورنیا کے ساحلوں پر نیلی وہیلز کی خاموشی، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

یہ وہیلز موسم گرما کے اختتام سے سردیوں کے آغاز تک امریکی شمال مغربی ساحلی علاقے کے سالش سمندر (Salish Sea) اور پجٹ ساؤنڈ(Puget Sound) کا رخ کرتی ہیں، جہاں ان کی بنیادی خوراک چنوک سالمن مچھلی ہے۔ سمندری جہازوں کا شور ان کی خوراک تلاش کرنے، ایک دوسرے سے رابطے اور آواز کی لہروں سے راستے اور شکار کا تعین کرنے کی صلاحیت متاثر کرتا ہے، جبکہ جہازوں سے ٹکراؤ بھی ان کی زندگی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

سی این این کے مطابق مائیکروسافٹ، کوائٹ ساؤنڈ اور ایس ایم آر یو کنسلٹنگ نے مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والا صوتی نگرانی کا نظام تیار کیا ہے۔ جولائی میں ہارو آبنائے (Haro Strait) میں نصب کیے گئے اس بوائے میں 3 زیرِ آب مائیکروفونز (ہائیڈروفونز) موجود ہیں، جو وہیلز کی مخصوص آوازیں ریکارڈ کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا نظام ان آوازوں کا تجزیہ کرکے قریباً حقیقی وقت میں ان کی شناخت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مائیکروسافٹ کے واٹر اسپارو (Water SPARROW) نامی مصنوعی ذہانت کے نظام کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیرِ آب آوازوں کی بڑی مقدار کا انسانی سطح پر تجزیہ کرنا مشکل ہے، تاہم مصنوعی ذہانت اس عمل کو تیز اور مؤثر بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ زیرِ آب شور کی شدت میں ہر ایک ڈیسی بل اضافے سے مادہ وہیلز کے شکار کے لیے نکلنے کے امکانات 58 فیصد کم ہو جاتے ہیں، جبکہ نر اور مادہ وہیلز کے شکار پکڑنے کی شرح میں بھی 12.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں:کیا ونڈ ٹربائنز کی وجہ سے وہیلز مررہی ہیں؟

دوسری جانب جہازوں کی رفتار کم کرنے کے رضاکارانہ پروگرام میں رواں سیزن 73 فیصد شرکت ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس اقدام کے آغاز سے زیرِ آب شور میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس بوائے ابھی جہازوں کو وہیلز کی موجودگی کے بارے میں براہِ راست انتباہ جاری نہیں کر رہا، تاہم نظام کی درستگی بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر سمندری حیات کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا اب کمپیوٹر پر بھی مفت 4K ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے؟ انسٹاگرام نے بڑا سرپرائز دے دیا

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھونچال، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی دباؤ کا شکار

فرانس میں کئی برس کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر امڈ آئے، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

کم عمری کی شادی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

ایران جنگ پر تنقید اور مواخذے کی دھمکیاں، امریکی وزیر دفاع کا عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟