غازی ملت سردار ابراہیم خان کی بیسویں برسی سے محض چند روز قبل آزاد کشمیر کی حکومت نے ان کے نام پر بننے والی ضلع پونچھ کی واحد پبلک لائبریری پر شب خون مارتے ہوئے 7 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا جس سے لائبریری بندش کے خطرے سے دوچار ہوگئی۔
26 جولائی کو ڈپٹی ڈائریکٹر خورشید نیشنل لائبریری مظفرآباد کے قلم سے سرکاری حکم جاری ہوا جس کے مطابق ملازمین کو فارغ کیے جانے کی وجہ محکمہ ہائیرایجوکیشن کی اس لائبریری بارے ترقیاتی اسکیم کا معمول کے بجٹ میں شامل نہ ہونا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ ان ملازمین کو بغیر پیشگی اطلاع اور نئے مالی سال کے 26 دن کام کرنے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ آپ کو تو 26 دن پہلے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کی اطلاع 27 جولائی کو دی گئی۔

صحافی دانش ارشاد نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہرکیا کہ غازی ملت لائبریری کی ترقیاتی اسکیم ختم کرنے کی کوشش حکومتی فیصلہ کم اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی انا کا مسئلہ زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غازی ملت پبلک لائبریری کا افتتاح 17 جنوری 2022 کو ہوا جسے اب تک 3670 افراد وزٹ کر چکے ہیں۔ یہ لائبریری ہائیر ایجوکیشن کمیشن آزاد حکومت کی ایک ترقیاتی اسکیم کے باعث قائم ہوئی اور اس لائبریری کا انتظامی انچارج خورشید نیشنل لائبریری مظفرآباد کا ڈائریکٹر ہے۔
دو ماہ قبل لائبریری کے انتظامی انچارج کی مدت ملازمت مکمل ہوئی اور انہوں نے فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد اسی شعبے میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر مسرت مہربان کو ڈائریکٹر کے اضافی اختیارات تفویض کیے گئے جس کے بعد انہوں نے مالی سال 2022-23 کے آخری دنوں میں غازی ملت پبلک لائبریری کا دورہ کیا۔

اس دورے کے دوران انہیں لائبریری کا فرنیچر پسند آیا یا پھر وہاں فرنیچر کا ہونا ناگوار گزرا، انہوں نے اپنے دورے کے چند دن بعد یعنی 6 جون 2023 کو اس فرنیچر کے حصول کے لیے مذکورہ لائبریری کے انچارج کو فون پر یہ فرنیچر مظفرآباد بھجوانے کے زبانی احکامات جاری کیے۔
انتظامی افسر نے احکامات کی بجا آوری کرنا چاہی لیکن مقامی لوگوں نے ایسا ممکن نہ ہونے دیا اور گاڑی میں لوڈ کیا گیا فرنیچر واپس لائبریری میں شفٹ کروا دیا گیا، جس پر مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو شدید غصہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مالی سال کا اختتام ہو رہا تھا اور نئے مالی سال کے لیے میزانیہ ترتیب دیا جا رہا تھا اس غصے کا پہلا اثر یہ ہوا کہ غازی ملت پبلک لائبریری نارمل میزانیہ پر نہ آ سکی۔
دانش ارشاد کے مطابق اس کی ایک وجہ انوار الحق حکومت کی بے ترتیبی بھی تھی کیونکہ ان کی توجہ حکومت بنانے پر مرکوز تھی۔ اس کے بعد بھی جب غصہ ختم نہ ہوا تو انتظامی انچارج نے نئے مالی سال کے 26 دن گزرنے کے بعد اس پراجیکٹ کو بند کرنے کا مراسلہ جاری کردیا۔
مراسلہ میں لکھا کہ، چونکہ یہ سکیم نارمل میزانیہ پر منتقل ہو سکی نہ ہی منصوبے کو توسیع مل سکی اس لیے یہ پراجیکٹ 26 دن پہلے (یعنی 30 جون 2023 کو) بند کیا جا چکا ہے (یعنی یہ 26 دن جو کچھ کیا گیا اس کی پوچھ گچھ ہو گی نہ ہی کام کا معاوضہ دیا جائے گا) اس لیے غازی ملت پبلک لائبریری کے اسٹاف کو یکدم فارغ کر کے چارج عاصم حمید کو دیا جاتا ہے۔
سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن ظہیرالدین قریشی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ترقیاتی سکیم کے بند ہونے سے لائبریری بند نہیں ہوگی، فنانس ڈویژن کو لائبریری کا بجٹ نارمل میزانیہ پر منتقل کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے اور ریگولر بجٹ ملنے کی قوی امید ہے۔ تاہم انہوں نے فارغ کیے گئے ملازمین کی بحالی سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔

وی نیوز نے خورشید نیشنل لائبریری مظفرآباد کےسابق ڈائریکٹر سعد سے بھی بات کی جن کے دور میں اس لائبریری کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان کے مطابق اس ترقیاتی سکیم کے بجٹ کو نارمل میزانیہ پر منتقل کرنے کی کارروائی ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔
تاہم ہائرایجوکیشن اور لائبریری کی موجودہ انتظامیہ نے اس معاملے کی پیروی میں غفلت کا مظاہرہ کیا جس کے باعث نہ صرف میرٹ پر رکھے گئے ملازمین کا روزگار چھن گیا بلکہ لائبریری کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا۔
واضح رہے کہ پونچھ کے سماجی اور ادبی حلقوں میں لائبریری کے معاملہ پر حکومت کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پرغم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے۔ انہوں نے اس لائبریری کے خلاف کسی بھی حکومتی اقدام کی صورت میں شدید ردعمل کا مظاہرہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔















