بانی کشمیر اور غازی ملت سردار ابراہیم خان کو بچھڑے 20 برس بیت گئے

پیر 31 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف کشمیری رہنما غازی ملت سردار ابراہیم خان کو بچھڑے 20 برس گزر گئے۔ سردار ابراہیم خان دوران حیات 4 مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر رہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات کی بدولت انہیں بانی کشمیر اور غازی ملت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

معروف کشمیری رہنما سردار ابراہیم خان 22 اپریل 1915 کو ضلع پونچھ کے علاقے کوٹ مٹے خان میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے، یونیورسٹی آف لندن اور لنکنز ان سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ 1946 میں جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

سردار ابراہیم خان نے 19 جولائی 1947 کو اپنی رہائشگاہ پر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کروائی۔ 24 اکتوبر 1947 کو پونچھ بغاوت کے دوران مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کو عبرتناک شکست دے کر آزاد جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی۔

سردار ابراہیم 1948 میں آزاد جموں و کشمیر کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ سردار ابراہیم خان دوران حیات 4 مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر رہے۔ 31 جولائی 2003 کو 88 برس کی عمر میں انتقال ہوا اور اپنے آبائی گاؤں کوٹ مٹے خان میں سپردِ خاک کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز