90 روز کی آئینی مدت میں انتخابات نہ ہوئے تو وفاق کے لیے سنگین نتائج ہوں گے، رضا ربانی

منگل 15 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ 90 روز کی آئینی مدت کے اندر عام انتخابات نہ ہوئے تو اس کے وفاق کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔

منگل کو اپنے ایک بیان میں رضا ربانی نے کہاکہ قومی اسمبلی کی تحلیل کو 6 روز ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کوئی جامع بیان جاری نہ کرنا افسوسناک ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت 90 دنوں میں انتخابات کرانے کے آئینی تقاضے پر گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد حلقہ بندیوں کے لیے مطلوبہ وقت بتانا چاہیے۔

رضا ربانی نے کہاکہ الیکشن عام انتخابات کے معاملے کو معمول کے طور نہ لے، نا ہی پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کو مقدم رکھنا چاہیے۔

سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اگر اپنے آئینی مینڈیٹ کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر کام نہیں کرتا تو ایسے میں نتائج ادارے کے کندھوں پر ہی ہوں گے۔

واضح رہے کہ اتحادی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کرنئی مردم شماری کی منظوری دی ہے جس کے بعد آئینی طور پر نئی حلقہ بندیاں کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو 120 روز کا وقت چاہیے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات 90 روز کی مدت میں ممکن نہیں۔

دوسری جانب سابق حکومت کے اہم عہدیدار بھی جاتے جاتے یہ بتا گئے ہیں کہ عام انتخابات فروری یا مارچ میں متوقع ہیں۔

آج جب سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطابندیال نے الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا سے استفسار کیا کہ عام انتخابات کب ہو رہے ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا