صدر کے ٹوئٹ سے کوئی بھونچال نہیں آیا، ایوان صدر کا ریکارڈ قبضے میں نہیں لیں گے، نگراں وفاقی وزرا

اتوار 20 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں حکومت نے کہا ہے کہ صدر مملکت وفاق کا سربراہ ہوتا ہے، اس عہدے کا احترام لازم ہے ایسا قطعاً نہیں چاہییں گے کہ ایوان صدر جا کر ریکارڈ قبضے میں لیں۔ اگر صدر 10 دن میں بل منظور یا مسترد نہیں کرتے تو یہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔

اسلام آباد میں نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی اور وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر کے پاس دو اختیار ہوتے ہیں یا کسی بل پر دستخط کر دیں یا پھر تحریری اعتراضات لگا کر بل ترمیم کے لیے واپس بھیجیں۔

نگراں وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کے پاس دوسرے اختیار میں اہم بات یہ ہے کہ بل پر اپنے مشاہدات تحریری طور پر درج کر کے واپس بھیج دیں، 2 اگست کو آرمی ترمیمی بل صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا جب کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بل 8 اگست کو موصول ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین  کے آرٹیکل 75 کے تحت صدر پارلیمان سے آئے بلوں پر دو اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اایوان صدر سے بل واپس موصول ہی نہیں ہوئے تو صدر کے اعتراض کا کیسے پتا چلے گا۔ 10 دن کی مدت میں صدر نے نہ بل پر دستخط کیے نہ ہی مشاہدات درج کر کے واپس بھیجے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر کو 10 دنوں میں ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اگر صدر 10 دن میں بل منظور یا مسترد نہیں کرتے تو یہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسا قطعاً نہیں چاہییں گے کہ ایوان صدر جا کر ریکارڈ قبضے میں لیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں سیاسی گفتگو کرنے نہیں بلکہ حقائق اور قانون بیان کرنے آئے ہیں، صدر مملکت نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کیا  اگر کوئی ابہام تھا بھی تو وزارت قانون کے پریس ریلیز اور وزیر قانون کے مؤقف سے دور ہو گیا۔ اایوان صدر سے بل واپس موصول ہی نہیں ہوئے تو صدر کے اعتراض کا کیسے پتا چلے گا۔ 10 دن کی مدت میں صدر نے نہ بل پر دستخط کیے نہ ہی مشاہدات درج کر کے واپس بھیجے۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل یکم اگست کو قومی اسمبلی نے منظور کر کے سینیٹ کو بجھوایا۔ جب صدر ممکلت کو پاسکتان آرمی ( ترمیمی ) بل 2023، 2 اگست کو موصل ہوا جب کہ پاکستان آرمی ترمیمی بل 27 جولائی کو سینیٹ اور 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے منظور کیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بل 2 اگست کو صدر مملکت کو بھیجا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ نگراں حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ سیاسی گفتگو نہیں حقائق اور قانون کی بات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر استعفا دیں گے یا اپنے عہدے پر موجود رہیں گے اس کا علم نہیں۔ میں صدر مملکت سے کہنا چاہتا ہوں کوئی بھونچال نہیں آ رہا۔ ضروری ہے کہ قانونی نکات کی وضاحت کی جائے۔ اگر اس سے متعلق کوئی ابہام تھا تو وہ وزارت قانون کی پریس ریلیز کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ رہی سہی کثر آج نگراں وزیر قانون عرفان اسلم نے بتا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں رہنا چاہتے اس سے متعلق ان کی کیا منشا اور مرضی ہے، ہمیں ان کی ایسی کیسی خواہش کا کوئی علم نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟