نگراں وزیر صحت پنجاب کی اہلیہ کی کمپنی کی دوا غیر معیاری قرار

ہفتہ 26 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب نے نگراں وزیر صحت پنجاب جاوید اکرم کی اہلیہ کی فارماسوٹیکل کمپنی کی تیار کردہ ٹیبلیٹ ریسوٹن ملاوٹ شدہ اور غیرمعیاری قرار دیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا۔

چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب نے اہلیہ ڈاکٹر جاوید اکرم کی نجی فارماسوٹیکل کمپنی کی دوا کا استعمال فوری روکنے کا حکم دیتے ہوئے ریسوٹن دوا کا اسٹاک واپس منگوا لیا۔

چیف ڈرگ کنٹرولر نے کہاکہ نجی کمپنی کی دوا ملاوٹ شدہ اور غیرمعیاری ہے، تاہم تمام فارمیسز اور میڈیکل اسٹور، اسٹاک کی فروخت فوری روک دیں۔

’ٹیبلٹ ریسوٹن کی دوا فوری طور پر واپس بھجوائی جائے۔‘

چیف ڈرگ کنٹرولر کے مطابق دوا کا استعمال مریضوں کے لیے جان لیوا ہوسکتا ہے، اس لیے ڈرگ انسپکٹر فوری طور پر دوا کا اسٹاک واپس منگوائے۔

نگراں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے اپنے موقف میں کہاکہ دوا کا استعمال الرجی کے امراض کے لیے کیا جاتا ہے اور کمپنی میری فیملی کی ہے۔ دوا میں پیراسٹامول کے چند ٹریسز پائے گئے ہیں۔

نگراں وزیر صحت کا کہنا ہے کہ بیرون ملک میں بھی ادویات کا اسٹاک واپس منگوایا جاتا ہے، ادویات میں مزید کوئی مسئلہ نہیں آیا، ادویات کا اسٹاک واپس منگوا لینا اچھا عمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک مارکیٹ ایک مرتبہ پھر مندی کا شکار، انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی

امریکا ایران مذاکرات، اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع مؤخر

پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

حالیہ کارکردگی پر ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، محمد رضوان کا اعتراف

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟