جنرل باجوہ کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ، عمران خان کا صدر مملکت کو خط

جمعرات 16 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدرکو لکھے گئے خط میں عمران خان نے لکھا ہےکہ چند روز کے دوران عوامی سطح پر نہایت ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔

معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جنرل باجوہ نے صحافی سے اعتراف کیا کہ ‘ہم عمران خان کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتے تھے’۔

جنرل باجوہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ‘عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو نقصان ہوگا’،

تحقیق کی جائے کہ جنرل باجوہ کے استعمال کیےگئے اس ‘ہم’ سے کیا مراد ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کویہ اختیار کس نے دیا کہ منتخب وزیراعظم سے متعلق فیصلہ کریں، فیصلہ صرف عوام کا ہے کہ وہ کسے وزیراعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں۔

جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین کے آرٹیکل 244 کی صریح خلاف ورزی ہے،

صدر مملکت کو لکھے گئے خط کا عکس/ پی ٹی آئی سوشل میڈیا

جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین میں تیسرے شیڈول میں درج حلف کی خلاف ورزی ہے۔

خط کے مندرجات کے مطابق جنرل باجوہ نے اپنی گفتگو میں نیب کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

جنرل باجوہ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے شوکت ترین کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کرایا، جنرل باجوہ کا یہ دعویٰ بھی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے۔

آئین کے تحت افواج پاکستان وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈیپارٹمنٹ ہے، آئینی نظم کے تحت سویلین حکام یا خود مختار ادارے فوج کے ماتحت نہیں۔

عمران خان نے کہا ہےکہ جنرل باجوہ کی وزیراعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز آرمی چیف کے حلف کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

جنرل باجوہ کی وزیراعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس سوال کاجواب اہم ہے کہ جنرل باجوہ کیوں اور کس حیثیت و اختیار سے خفیہ بات ریکارڈ کرتے تھے۔

صدر مملکت اور افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونےکے ناطے آپ کی آئینی ذمہ داری ہےکہ آپ معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

عمران خان نے خط میں مطالبہ کیا ہےکہ تحقیقات کے ذریعے تعین کیا جائےکہ آیا آئین کے تحت آرمی چیف کے حلف کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

روس، یوکرین جنگ پر حکومت کی غیر جانبداریت کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی جنرل باجوہ نے اپنے حلف کے تقاضوں کو پامال کیا۔

جنرل باجوہ نے 2 اپریل 2022 کو سکیورٹی کانفرنس میں روس، یوکرین جنگ پر حکومتی پالیسی سے متضاد موقف اپنایا، میں نشاندہی کردوں کہ معاملے پر حکومت پاکستان کی پالیسی کو وزارت خارجہ اور متعلقہ ماہرین سمیت تمام فریقین میں مکمل اتفاق رائے سے مرتب کیا گیا۔

آئین کا چیپٹر دوم اور خاص طور پر آرٹیکل 243,244 افواج پاکستان کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا کراچی کو صوبہ بنا دینا چاہیے؟ شہر قائد کے باسیوں نے کھل کر رائے کا اظہار کردیا

پاسنگ مارکس کی شرح مقرر، رٹہ سسٹم کا خاتمہ، تعلیمی بورڈز کے اہم فیصلے سامنے آ گئے

سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

آئی سی سی کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی یا فور نیشن سیریز کرانے پر غور شروع

ویڈیو

کیا کراچی کو صوبہ بنا دینا چاہیے؟ شہر قائد کے باسیوں نے کھل کر رائے کا اظہار کردیا

سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

کالم / تجزیہ

اُچ شریف کے آثار اور یادیں

مسلم سائنس کا قتل اور ملزم امام غزالی

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا