سویلینز کی فوجی عدالتوں سے ٹرائل کیخلاف درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

بدھ 20 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف کے دور حکومت میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواست سپریم کورٹ نے اعتراضات کے ساتھ واپس کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست گزار مقدمہ کی عوامی اہمیت کا نکتہ اجاگر نہیں کر سکے ہیں۔

وکیل کرنل(ر) انعام الرحیم نے عدالت عظمی سے رواں برس جولائی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ہونے والے ٹرائلز کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی، جسے سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے ساتھ واپس کردیا ہے۔

سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار کیس عوامی اہمیت کا ہونے کا نکتہ اجاگر نہیں کر سکے، درخواست گزار نے کسی متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئی ہیں۔

کرنل (ر) انعام الرحیم کی درخواست تھی کیا؟

تحریک انصاف کے دور حکومت میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں 29 سویلینز کے ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوئے اور انہیں سزائیں بھی سنائی گئیں۔

درخواست گزار نے فوجی عدالتوں میں ملزمان کے ٹرائل کے فیصلے کو کالعدم   قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایف آئی آر کا اندراج کیے بغیر پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی قانونی حیثیت ہے؟

درخواست گزار کے مطابق فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا نہ ان کی حوالگی کے لیے باقاعدہ اجازت لی گئی، 29 میں سے 24 افراد کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا ’کسی سویلین کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیے بغیر 24 گھنٹے سے زیادہ تحویل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کی حوالگی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی منظوری ضروری ہے جبکہ ٹرائل 32 دنوں میں مکمل کیا جانا چاہیے۔ ‘

عمران خان کا اعتراف ؟

سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اپنی درخواست میں سوال اٹھایا تھا کہ آیا سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت کے آرمی چیف اور دیگر فریقین 29 لوگوں کے اغوا کے مرتکب نہیں ہوئے؟ سابق وزیراعظم نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کی اجازت دے کر اپنے حلف سے غداری کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل وفاقی حکومت کے غیر آئینی احکامات کے تحت کیا گیا جبکہ عمران خان کی جانب سے اب سویلین شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست ان کی اپنی غلطی کے اعتراف کے مترادف ہے۔ اب وہ سویلینز کے حقوق کے چیمپئن کے طور پر خود کو پیش کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، صوفی سٹی منڈی بہاؤ الدین میں عظیم الشان تقریب

وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل

بکری کے شکار پر آئے اژدھے کو ہاتھ پر ڈسنے کے باوجود شخص دبوچ لیا

’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید

طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی