جماعت اسلامی بھاری بھرکم بجلی بلوں کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

جمعرات 12 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جماعت اسلامی نے ملک میں بجلی بلوں میں ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

جماعت اسلامی کی طرف سے درخواست سپریم کورٹ کے وکلا قیصر امام اور سید رفاقت حسین شاہ  نے جمع کرائی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریگولیٹری اداروں نے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفّظ کے حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کیا ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق ریگولیٹری اداروں نے عوام پر بوجھ ڈالنے والے اداروں کو کھلی چھٹی دے دی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی حالت زار پہلے سے ابتر ہو گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت، وزارت توانائی اور نیپرا نے پاور سیکٹر میں ہر قسم کے استحصال کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، سرچارج، ٹیکسز اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔

درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفّظ اور عوام کو ظلم سے بچانے کے لیے حکومت اور نیپرا کی طرف سے بجلی بلوں میں لگائے گئے ظالمانہ ٹیکسز کے معاملہ کو سماعت کے لیے منظور کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان