چمن میں ویزا پالیسی کیخلاف مسلسل پانچویں روز احتجاج

جمعہ 27 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک افغان سرحدی شہر چمن میں پانچویں روز بھی احتجاج جاری ہے. احتجاج کا سلسلہ پاک افغان سرحد پر ویزا پالیسی کے خلاف شروع ہوا۔ سرحد پر پاسپورٹ کی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے سینکڑوں لوگ سرحدی شہر کی سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرے میں سیاسی جماعتوں کے رہنما، تاجر برادری، یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ وہ سرحد پر پاسپورٹ پالیسی متعارف کرانے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔

سیاسی رہنماؤں کی حکومت پر تنقید

5 روز سے جاری احتجاجی جلسے میں سیاسی رہنماؤں اور تاجر رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں افغانستان کے لیے ویزا اور پاسپورٹ پالیسی متعارف کرانے پر حکومت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی نے علاقے میں ہزاروں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے اور یہ سرحد پر ہموار کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ ہوگی۔

سرحد پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی

چمن میں جاری یہ احتجاج وفاقی حکومت کی جانب سے سرحد پر قانونی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ویزا اور پاسپورٹ کو ضروری قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے موقع پر سرحد پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔

14 ہزار  تارکین وطن رضاکارانہ طور پر واپس جاچکے ہیں

دوسری جانب نگران صوبائی وزیر داخلہ زبیر جمالی نے کوئٹہ میں افغان مہاجرین کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان سے ابتک 14 ہزار  تارکین وطن رضاکارانہ طور پر واپس جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یکم نومبر 2023 سے غیر قانونی تارکین وطن کو ہر صورت نکالا جائیگا۔ کسی  کیساتھ غیر انسانی سلوک نہیں کیا جائیگا، صرف افغانستان کے لوگ ہمارا ٹارگٹ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کے حوالے سے جیو فینسنگ کی جائے گی۔ اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت قبول نہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے نقل و حرکت کے لیے پاسپورٹ کو ضروری قرار دیا ہے۔ اور یکم نومبر سے بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے کسی بھی غیر ملکی کی پاکستان میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس

گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا