قومی کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ 35 سال سے پاکستان کرکٹ سے منسلک ہوں، چیف سلیکٹر کا عہدہ قبول کر کے مجھ سے غلطی ہو گئی، میرے کردار پر انگلیاں نہ اٹھائی جائیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق انضمام الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم مکی آرتھر کے ساتھ سب نے مل کر سلیکٹ کی تھی، جب ٹیم کا اعلان ہو جائے تو پھر اسے اسپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ ’ٹیم جب بھی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو ہر کوئی خود کو بچانے میں لگ جاتا ہے‘۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہاکہ کھیل میں ہار اور جیت ہوتی ہے، میں نے گزشتہ 2 سال میں کھیلنے والی ٹیم کو ہی ورلڈ کپ کے لیے سلیکٹ کیا، عہدے سے استعفیٰ اس لیے دیا کہ الزامات کی انکوائری ہو سکے۔
انضمام الحق نے کہاکہ میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ مجھے بلا کر وضاحت لی جائے، بورڈ نے عہدہ قبول کرنے سے قبل کوئی کاروبار ڈیکلیئر کرنے کا نہیں کہا تھا۔
واضح رہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران قومی ٹیم کی پے درپے شکستوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے جس کی پاداش میں چیف سلیکٹر انضمام الحق نے 30 اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا۔
انضمام الحق نے استعفیٰ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں تاکہ میڈیا پر لگائے گئے مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی صاف اور شفاف تحقیقات ہو سکیں۔ اگر کمیٹی مجھے قصوروار نہیں پاتی تو میں چیف سلیکٹر کے عہدے پر اپنی ذمہ داریاں دوبارہ شروع کروں گا۔
مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے کیا؟
پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور کھلاڑیوں کے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متعدد کھلاڑیوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والی پی آر فرم سایا کارپوریشن خبروں میں گردش کرنے لگی۔
چیف سلیکٹر انضمام الحق پر الزام ہے کہ وہ سایا کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ ہیں، مبینہ طور پر وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بھی سایا کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔ چیف سلیکٹر پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹیم منتخب کرتے وقت ان کھلاڑیوں کو ترجیح دی جو سایا کارپوریشن کے کلائنٹ ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اس معاملے پر کہا تھا کہ ’وہ اس معاملے پر انضمام الحق سے بات کریں گے‘۔





















