غزہ: صیہونی فوج کے ہاتھوں معذور ہونے والی بچی اپنی اصلی ٹانگوں کے لیے بضد

پیر 6 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں صہیونی فوج کی بمباری سے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہو رہے ہیں جس کے باعث طبی پیچیدگیوں پر زخمیوں کے اعضا بھی کاٹنے پڑ رہے ہیں اور اسی قسم کی آزمائش کی شکار ایک فلسطینی بچی ڈاکٹروں سے ضد کر رہی ہے کہ وہ اس کی اصلی ٹانگیں اس کے جسم پر دوبارہ لگادیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناصر اسپتال میں داخل 13 سالہ لیان الباز گزشتہ ہفتے خان یونس کے القارا محلے میں ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے سے اپنی ٹانگیں گنوا بیٹھی ہے اور اسے مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی ہیں۔

درد کی شدت سے جاگ جانے پر جب بھی لیان الباز کی نظر اپنی اجنبی ٹانگوں پر پڑتی ہے ہے تو وہ چیخ اٹھتی ہے اور ڈاکٹروں سے کہتی کی اسے مصنوعی اعضا نہیں چاہیے اس کی اصلی ٹانگیں ہی لگادی جائیں۔ وہ کہتی ہے کہ ڈاکٹر تو سب کچھ کر سکتے ہیں اس لیے وہ اس کی اصلی ٹانگ لگادیں یا ٹانگ کے بچ جانے والے حصے کو تھوڑا بڑا کردیں۔

معصوم بچی اکثر یہی ضد کرتی رہتی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ ڈاکٹر اصلی ٹانگیں دوبارہ لگا سکتے ہیں لہٰذا اس کی ٹانگیں اسے واپس دلوائی جائیں۔

لیان کی والدہ لامیہ الباز بتاتی ہیں کہ لیان یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب اس کے دوست اپنے پیروں پر چلیں گے اور وہ نہیں چل سکے گی تو وہ اسکول کیسے جایا کرے گی۔ والدہ کے مطابق لیان بڑی ہوکر نرس بننا چاہتی ہے تاکہ مریضوں کی خدمت کرسکے۔ بچی کی والدہ نے مزید بتایا کہ بم دھماکے میں ان کی 2 بیٹیاں اور 2 نواسے بھی جاں بحق ہوئے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں تقریباً ساڑھے 9 ہزار شہادتیں ہوچکی ہے اور شہید ہونے والوں میں 3900 بچے اور 2509 خواتین بھی شامل ہیں۔

لیان کی طرح 14 سال کی لمی الآغا اور اس کی 15 سالہ بہن سارہ بھی صیہونی فوج کے حملوں میں زخمی ہوئیں اور برنز وارڈ میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کی ایک بہن اور چھوٹا بھائی نے جام شہادت نوش کیا۔ لمی کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی ہے تاہم اس باہمت لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ٹانگ لگوارہی ہے۔

لمی کی بچپن سے ڈاکٹر بننے کی خواہش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گی اور اپنے خاندان کے لیے مضبوط سہارہ بھی ثابت ہوگی۔

ناصر ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناھض ابو طعیمہ نے میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اور دستیاب صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اعضا کاٹنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات فیصلہ بہت مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ہم زخمی شخص کی جان اور زخمی عضو کو بچانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

آئی سی سی کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی یا فور نیشن سیریز کرانے پر غور شروع

نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی محاذ آرائی نہیں، قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے، چوہدری شجاعت حسین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر، افغان شہریوں کے ویزے بحال کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پاکستان

ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، وزیر داخلہ بلوچستان

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

پنجاب کو ہمسایہ ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشتگردی کا خطرہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

1948 سے قائم کراچی کی دکان، کچوری اور سموسے کا ذائقہ نسل در نسل برقرار

کالم / تجزیہ

اُچ شریف کے آثار اور یادیں

مسلم سائنس کا قتل اور ملزم امام غزالی

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا