مسلم لیگ ن کو آصف علی زرداری بطور صدارتی امیدوار قبول ہیں؟

منگل 20 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام انتخابات ہوئے 12 دن ہوگئے ہیں، اس وقت حکومت بنانے کے لیے جوڑ توڑ اور اپنی پسند کے عہدے لینے کے لیے پیپلزپارٹی اور ن لیگ متحرک ہیں اب تک ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کے لیے 5 اجلاس ہوچکے ہیں، پیپلزپارٹی کی ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ آئینی عہدے انہیں دیے جائیں تب ہم ن لیگ کے نامزد وزیر اعظم شہباز شریف کو ووٹ دیں گے۔ ن لیگی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی وفاق کے بجائے پنجاب میں وزراتیں لینے میں دلچسپی رکھتی ہے، اب تک جتنے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ دور ہوئے ہیں ان میں پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر ڈپٹی اسپیکر اور صدر مملکت کے عہدوں پر بات ہوئی ہے۔

ن لیگی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط بتایا کہ ن لیگ آصف علی زرداری کو بطور صدر کے امیدوار کے قبول نہیں کرتی، ہماری پارٹی کی اندر اور نواز شریف کو اس عہدے پر اعتراضات ہیں، نواز شریف چاہتے ہیں کہ ملکر حکومت بنائی جائے کچھ وفاقی وزراتیں ن لیگ کے پاس ہوں اور کچھ پیپلزپارٹی کے پاس ہوں۔

پیپلزپارٹی چاہتی ہے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے جو وفاق فنڈ دے وہ ایم کیو ایم کے بجائے پیپلزپارٹی کو دیے جائیں۔ سندھ میں گورنر پیپلزپارٹی کا ہو، پنجاب کی گورنر شپ سے پیپلزپارٹی پیچھے ہٹ گئی ہے البتہ صدر مملکت کے عہدے سے پیپلزپارٹی پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ قومی اسمبلی کا اسپیکر اگر پیپلزپارٹی سے ہو تو ڈپٹی اسپیکر ن لیگ سے ہوگا۔ اسطرح چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر بھی یہی فارمولا بنتا نظر آرہا ہے۔ صدر مملکت کا عہدہ سمیت تمام مطالبات پیپلزپارٹی کے مانے نہیں جاسکتے۔

نوازشریف صدر کے امیدوار ہوسکتے ہیں؟

ن لیگ رہنما نے بتایا کہ آصف علی زرداری کو بطور صدر کے امیدوار نہ صرف نواز شریف ابھی تک نہیں مان رہے بلکہ مریم نواز اور پارٹی کی سنئیر قیادت بھی اس حق میں نہیں لیکن اس پر بات چیت چل رہی ہے۔ وی نیوز نے سوال کیا کہ نواز شریف بھی ن لیگ کی طرف سے صدر کے امیدوار ہوسکتے ہیں تو اس پر انکا جواب تھا کہ ابھی تک پارٹی کے اندر نواز شریف کو لیکر کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہاں البتہ وہ بطور صدر پاکستان آتے ہیں تو یہ ایک اچھا انتخاب ہوگا لیکن پیپلزپارٹی اس پر مانے گی نہیں اور نواز شریف نے بھی کوئی ایسا اظہار نہیں کیا مگر ن لیگ چاہتی ہے کہ صدر مملکت کا عہدہ ن لیگ کے پاس ہونا چاہئیے۔

ن لیگ کی طرف سے کون اس عہدے کا امیدوار ہے کوئی نام بھی ابھی تک سامنے نہیں آیا، حکومت بنانے کے لیے 21 دن درکار ہوتے ہیں ابھی کافی دن پڑے ہیں پاکستان کے لیے اچھی خبریں ہوں گی، ہمیں امید ہے کہ دونوں جماعتیں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو اس بحران سے نکال لیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے