کیا ٹیکسز سے بھرپور بجٹ کا نشانہ متوسط طبقہ ہے؟

اتوار 30 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھاری ٹیکسز سے بھرپور پارلیمنٹ سے منظور ہونے والا آئندہ مالی سال کا بجٹ عام پاکستانیوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا اور حکمرانوں پر اعتماد کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ کیونکہ اس بجٹ میں اضافی ٹیکسوں کی بھارمار سے اشیاصرف کی قمیتوں پر براہِ راست اثر پڑے گا، اس کا زیادہ نشانہ متوسط آمدنی والے افراد ہوں گے۔

ڈان اخبار میں شائع تجزیہ کے مطابق حکومت نے اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کو فنانس کرنے اور آئی ایم ایف سے ایک بڑا بیل آؤٹ ڈیل حاصل کرنے اور 13ٹریلین کے ٹیکس ریونیو کا ہدف پورا کرنے کے لیے، 1.7 ٹریلین روپے کا اضافی ٹیکس عائد کیا ہے۔

وزیر اعظم سے لے کر نیچے تک ہر عہدیدار نے اس بجٹ کو اگلے چند سالوں میں ایک عظیم معاشی تبدیلی کی امید بنا پیش ہے، لیکن اس کے اہداف کی دیانتداری اور اس سے متعلق اقدامات پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آخری لمحات میں فنانس بل میں کی جانے والی تبدیلیاں، جس کے مطابق اصل بل میں موجود 1.5 ٹریلین روپے کے علاوہ 200 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات شامل تھے، حکومت کے اپنے اہداف پر عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔

تجزیہ کے مطابق بہت سے معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گی۔ اس لیے کہ ضروری اقدامات کے بغیر ٹیکس وصولی میں براہِ راست 48 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ نیز یہ کہ موجودہ معاشی سست روی اور اکثریت کی قوت خرید میں کمی کے پیش نظر اگلے سال بالواسطہ ٹیکسوں میں 35 فیصد اضافے کا تخمینہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ موجودہ بجٹ کا مقصد بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے اور اگلے 3 سالوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب موجودہ 9.5 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنا ہے۔ تجزیے کے مطابق بجٹ کی تفصیلات بیان بازی سے میل نہیں کھاتیں۔ متعارف کرائے گئے اقدامات وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے وعدے کے برعکس ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!