نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا

پیر 20 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے آج ہوا بازی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا، جب پہلی کمرشل پرواز نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کر گئی۔ پی آئی اے کی پرواز PK-503 کراچی سے صبح 9 بج کر 50 منٹ پر روانہ ہوئی اور سوا 11 بجے گوادر کے جدید سہولیات سے آراستہ ہوائی اڈے پر اتری۔ 46 مسافروں کو لے کر آنے والی یہ پرواز نیو گوادر ایئرپورٹ کے باقاعدہ آپریشنز کے آغاز کی علامت بنی۔

وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ محمد آصف اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کے ہمراہ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی نے تاریخی پرواز اور اس کے مسافروں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں خواجہ آصف نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اقتصادی ترقی، علاقائی سیاحت اور بین الاقوامی رابطوں کو فروغ دینے میں اہمیت پر زور دیا۔

دیگر معزز مہمانوں میں ڈائریکٹر جنرل ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) میجر جنرل عدنان، ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) ایئر وائس مارشل ذیشان سعید، جی او سی 44 ڈویژن میجر جنرل عدنان سرور ملک، پاک بحریہ کے ریئر ایڈمرل عدنان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایئرپورٹس صادق الرحمٰن، اور ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن شامل تھے۔

مزید پڑھیں: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروزایں اڑان بھرنے کو تیار

تقریب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیو گوادر ایئرپورٹ کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے معزز مہمانوں کو اسناد اور شیلڈز پیش کیں۔ اعزازات حاصل کرنے والوں میں وزیراعلیٰ بگٹی، گورنر مندوخیل، سیکریٹری ایوی ایشن منگی، سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل عامر حیات، ڈی جی اے ایس ایف میجر جنرل عدنان سرور ملک، ریئر ایڈمرل عدنان اور متعدد منصوبہ جات کے اہلکار شامل تھے۔

سیکریٹری ایوی ایشن منگی اور ڈی جی پی اے اے ایئر وائس مارشل ذیشان سعید نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کی ترقی میں ان کی قیادت کے اعتراف میں شیلڈ پیش کی۔

نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے، تجارت، سیاحت، اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پی آئی اے کی پرواز PK-503 کی کامیاب لینڈنگ گوادر کو ایک علاقائی اور عالمی تجارتی مرکز کے طور پر اس کی مکمل صلاحیتوں کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

گوادر ایئرپورٹ کا فعال ہونا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں مواصلاتی روابط کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم ہے، وزیرِ اعظم پاکستان

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گوادر ائیرپورٹ سے پروازوں کا سلسلہ شروع ہونے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اللہ کے فضل و کرم سے گوادر کو وسطی و مشرقی ایشیاء اور مشرق وسطی و خلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم رابطہ بنانے کے لیے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ گوادر ایئرپورٹ کا فعال ہونا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں مواصلاتی روابط کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

وزیرِ اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ گوادر ائیرپورٹ کا فعال ہونا سی پیک سے پاکستان اور خطے کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گا۔ آج ہم چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ اور میاں محمد نواز شریف کے سی پیک کے ذریعے پاکستان و خطے کی ترقی کے مشترکہ عزم کی تکمیل کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے سی پیک کی شروعات میاں محمد نواز شریف کے دور سے ہوئی اور اس کے اہم سنگ میل بھی ان کی قیادت میں عبور ہو رہے ہیں۔ مجھ سمیت پوری قوم چینی قیادت اور چینی حکومت کی مشکور ہے۔ بین الاقوامی سہولیات سے آراستہ گوادر ایئرپورٹ پاک چین دوستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ چین پاکستان کا وہ مثالی بھائی ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیرِ دفاع و ہوابازی خواجہ آصف، وزیرِاعلی سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان، سیکیورٹی پر مامور افسران، اہلکار اور عسکری قیادت کو ایئر پورٹ کی تعمیر کے لیے دن رات انتھک محنت پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

نیو گوادر ایئر پورٹ کے اہم خدو خال اور خصوصیات کیا ہیں؟

نیو گوادر ائیر پورٹ کا ورچوئل افتتاح 16 اکتوبر 2024 کو چین کے وزیر اعظم لی چیانگ اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کیا تھا، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے جس کی تعمیر 2019 میں شروع کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کا آغاز، ایئرپورٹ پر کون سی سہولیات دستیاب ہیں؟

پاکستان نے یورپ سے ایشیا جانے والے تمام چھوٹے ہوائی جہازوں کو گوادر ایئر پورٹ پر کم سے کم لاگت پر ری فیولنگ کی پیشکش بھی کی ہے، جس سے شارجہ دبئی کے ایئر ٹریفک کا رخ پاکستان کی طرف مڑنے کا امکان ہے، یوں ایئر لائن کمپنیوں کا کم از کم 2 گھنٹے کا وقت اور فیول بچے گا جبکہ اس عمل سے ابتدائی طور پر پاکستان کو 500 ارب کی آمدن ہوگی۔

گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ گوادر بندرگاہ  سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر گوردانی کے مقام پر تعمیر کیا گیا ہے، یہ ایئرپورٹ پاکستان اور چین کی دوستی کا ایسا شاہکار ہے جسے کم و بیش ایک ہزار پاکستانی اور 200 چینی انجینئرز نے  4 ہزار 300 ایکڑ پر تعمیر کیا ہے، جس پر 55 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔

ایئرپورٹ کا رن وے 3 ہزار 800 میٹر لمبا اور 45 میٹر چوڑا ہے، بین الاقوامی معیار کا جدید ٹرمینل 14 ہزار اسکوائر میٹر پر 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی اور اندرون ملک سفر کے لیے ٹرمینلز بنائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: گوادر کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ چین-پاکستان عظیم دوستی کی نمایاں مثال ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ایئر پورٹ سے کا سب سے بڑا فائدہ دوست ملک چین کو ہوگا جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی تجارتی مقاصد کے لیے اس ایئر پورٹ کا استعمال کر سکیں گے، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر بس A300 بوئنگ بی 747 سمیت دیگر طیاروں کو لینڈنگ کی سہولت حاصل ہوگی۔

گوادر ایئرپورٹ سے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے بھی بحری اور زمینی ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں کے ہزاروں افراد بھی روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں گے۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق نئے ہوائی اڈے کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کے حکومتی ادارے چائنا کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی کے ذیلی ادارے چائنا ایئرپورٹ کنسٹرکشن گروپ کو دیا گیا تھا۔

اتھارٹی کے مطابق گوادر ایئر پورٹ کے لیے 42 فٹ اونچے اور  14 ہزار مربع میٹر پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ خوبصورت اور اسمارٹ ٹرمینل بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے جو ابتدائی طور پر سالانہ 4 لاکھ سے زائد مسافروں کو ہینڈل کرسکے گی، کارگو کی صلاحیت سالانہ 30 ہزار ٹن ہے، مسافروں کو ٹرمینل سے پرواز تک جانے کے لیے برج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

gawadar-airport-inaugurated-started

مزید پڑھیں: بند ایئر پورٹس کو آپریشنل کرنے کا حکومتی منصوبہ تیار

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کئی ماہ قبل مکمل کرلی گئی تھی،اس دوران ایئر کنگ بی 700 کی ایک آزمائشی پرواز نئے ہوائی اڈے پر کامیابی سے اترچکی تھی۔

3 ماہ کے دورانیے تک جاری رہنے والے اس عمل میں معیار، قواعد و ضوابط، ایئرپورٹ کے ڈیزائن، آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، ایئرپورٹ کو پاکستان، عمان اور چین کا جوائنٹ وینچر سنبھالے گا تاہم اس کے انتظام اور آپریشن کی نگرانی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی اور ایئرپورٹ کو اوپن اسکائی پالیسی کے تحت چلایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جعلی رسید نہیں، اصل ٹیکس: پنجاب حکومت کا ٹیکس چوروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

بی آئی ایس پی اور بیت المال کی ڈیجیٹلائزیشن جاری، بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے، عمران شاہ

اسرائیلی حملوں نے امریکا ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار دیا تھا، اسحاق ڈار کا العربیہ کو انٹرویو

اسلام آباد پولیس نے اندھا قتل ٹریس کرلیا، خاتون کے قتل میں سگا باپ، سابق شوہر اور سسر گرفتار

غیر ملکی وفود کی آمد، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل، متعدد شاہراہیں بند، متبادل ٹریفک پلان جاری

ویڈیو

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

عالمی رہنماؤں کی پاکستان سے غیر معمولی محبت، پشاور کےشہری کیا کہتے ہیں؟

ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا