جرمنی میں قبروں پر پراسرار کیو آر کوڈز، معاملہ کیا ہے؟

پیر 24 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی کے مختلف شہریوں کے قبرستانوں میں ایک ہزار سے زیادہ قبروں پر پراسرار کیو آر کوڈز دیکھے گئے ہیں۔

جنوبی جرمن شہر والڈ فریڈہوف، سینڈلنگر فریڈہوف اور فریڈہوف سولن کے قبرستانوں میں قبروں پر پراسرار کیو آر کوڈز دیکھے گئے ہیں جس کی پولیس کی تحقیقات میں معاملہ سامنے آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: جرمن سفارتکار کی گھر میں پراسرار موت

حالیہ دنوں میں والڈفریڈہوف، سینڈلنگر فریڈہوف اور فریڈہوف سولن قبرستانوں میں مختلف قبروں پر 5 بائی 3.55 سینٹی میٹرز کیو آر کوڈز والے اسٹیکرز منظرعام پر آئے ہیں۔

چونکہ ان اسٹیکرز کو ہٹانے میں کافی خرچہ ہو رہا تھا، اس لیے قبرستان انتظامیہ نے پولیس سے مدد طلب کی۔ تحقیقات کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ’کیوآر‘ کوڈز دراصل ایک مقامی باغبانی کمپنی نے لگائے تھے، جو قبروں کی صفائی اور دیکھ بھال کی ذمہ دار تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ: زمین میں پڑنے والے ’پراسرار‘ گڑھوں کی حقیقت کیا ہے؟

کمپنی کے ایک سینئر مینیجر، الفریڈ زینکر نے وضاحت کی کہ ان اسٹیکرز کا مقصد صرف کمپنی کے ملازمین کو یہ بتانا تھا کہ کون سی قبریں صفائی اور مرمت کے عمل سے گزر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ہم ایک بڑی کمپنی ہیں، اور ہمارے کام کا ایک منظم طریقہ ہونا ضروری ہے۔‘

جرمن اخبار کے مطابق، قبر کی دیکھ بھال کا عمل خاصا پیچیدہ ہوتا ہے۔ پتھر کو پہلے ہٹایا جاتا ہے، اس کے داغ صاف کیے جاتے ہیں، اور پھر اسے واپس نصب کیا جاتا ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ اس تمام عمل کی وجہ سے قبرستانوں کو تقریباً 5 لاکھ یورو (تقریباً 4.5 کروڑ روپے) کا نقصان ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

راولاکوٹ دھرنے میں ٹی ٹی پی اور ایکشن کمیٹی کا مبینہ گٹھ جوڑ، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش

سائرہ عطا لسبیلہ ڈویژن کی پہلی کمشنر مقرر، بلوچستان میں خواتین کی قیادت کا نیا سنگِ میل

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان