یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر اسرائیل اور حماس کے مابین مذاکرات دوبارہ سے شروع

اتوار 18 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر حماس اور اسرائیل کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے کہا ہے کہ دوحہ میں موجود حماس کے وفد نے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کردیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بغیر کوئی شرائط مانے مذاکرات میں شامل ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حماس نے اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئے مذاکرات کی تصدیق کردی

دوسری طرف حماس کے ترجمان طاہر النونو نے بھی مذاکرات کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں جنگ کے خاتمے، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں 2 مہینوں سے زائد عرصے سے امدادی اشیا کی ترسیل پر پابندی اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

تاہم مذاکرات کے باوجود غزہ میں اسرائیلی بمباری نہ رک سکی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں ہونے والی شدید اسرائیلی بمباری میں 70 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں حملوں میں شدت لا رہی ہے اور حماس پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور یہ سلسلہ یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کے تحلیل ہونے تک جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا