امریکی کانگریس ایپسٹین فائلز جاری کرنے پر متفق، ٹرمپ نے بھی اعتراض ختم کردیا

بدھ 19 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ری پبلکن اکثریت والی امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے وزارتِ انصاف کی جیفری ایپسٹین سے متعلق تمام فائلیں فوراً عام کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔

اس اقدام کی طویل عرصے تک مخالفت کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک اپنا مؤقف بدلتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ’چھپانے کو کچھ نہیں‘ ٹرمپ کا ریپبلکنز کو ایپسٹین فائلز جاری کرنے کے لیے ووٹ دینے کا مطالبہ

ایوانِ نمائندگان میں بل 427 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے منظور ہوا، جس کے فوراً بعد ری پبلکن اکثریت والے سینیٹ نے بھی اسے منظوری دے دی۔ بل بدھ کے روز تک صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ اسے قانون بنانے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔

متاثرہ خواتین کا مطالبہ پورا

بل پر رائے شماری سے قبل تقریباً 2 درجن خواتین، جنہوں نے خود کو ایپسٹین کے مبینہ متاثرین کے طور پر پیش کیا، کیپٹل ہل کے باہر قانون سازوں کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے: بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی لیکڈ ای میلز: 2018 میں عمران خان ’امن کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار

ان خواتین نے اپنی کم عمری کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور فائلوں کے اجراء کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں بل کی منظوری کے بعد وہ بالائی گیلری سے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتی رہیں، کئی ایک جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔

ٹرمپ کی ناراضی برقرار

اگرچہ ٹرمپ نے بل کی مخالفت ختم کردی ہے، مگر وہ ایپسٹین معاملے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ منگل کو اوول آفس میں ایک رپورٹر کے سوال پر انہوں نے اسے ‘بہت بُرا شخص’ قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ ٹی وی نیٹ ورک کا لائسنس منسوخ ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ میرا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے اسے برسوں پہلے اپنے کلب سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ ایک بیمار ذہن کا شخص تھا۔

ری پبلکنز اور ٹرمپ کے حامیوں میں بے چینی

ایپسٹین اسکینڈل طویل عرصے سے ٹرمپ کے لیے سیاسی دردِ سر بنا ہوا ہے۔ بہت سے ٹرمپ حامیوں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کے طاقتور افراد سے تعلقات کو چھپایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: لڑکیوں کی اسمگلنگ: ایک متاثرہ لڑکی نے ٹرمپ کے ساتھ ’گھنٹوں گزارے‘، ایپسٹین کی نئی ای میلز سامنے آگئیں

اس معاملے نے ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کو بھی متاثر کیا۔ تازہ ترین رائٹرز/اِپیسوس سروے کے مطابق صرف 20 فیصد ووٹرز نے اس مسئلے پر ٹرمپ کی کارکردگی کو قابلِ قبول قرار دیا، جبکہ ری پبلکنز میں یہ شرح 44 فیصد رہی۔

ایپسٹین کا پس منظر

ایپسٹین ایک بااثر امریکی فنانسر تھا، جس کے تعلقات ملک کی طاقتور ترین شخصیات سے رہے۔ اس نے 2008 میں فلوریڈا میں قحبہ گری کے ایک مقدمے میں 13 ماہ کی سزا کاٹی۔

بعد ازاں 2019 میں اسے کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، تاہم وہ مقدمے کے دوران نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ موت کو خودکشی قرار دیا گیا، مگر تنازع آج بھی برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم