رات گئے کمرے کا دروازہ بند تھا اور اندر سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو میری 12 سالہ بیٹی ایک کونے میں اسمارٹ فون ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔ آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اور چہرہ رو رو کر زرد پڑ چکا تھا۔ ہم تو بچوں سے ڈانٹ ڈپٹ بھی کم ہی کرتے ہیں، اس کی یہ حالت دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔ میں نے پوچھا: ’کیا ہوا؟‘ اس نے کمزور سی آواز میں کہا: ’وہ گروپ چیٹ میں میری فوٹوز کا مذاق بنا رہے ہیں… مجھے ٹرول کر رہے ہیں‘۔
میرا فوری رد عمل تھا : ’ارے، بے وقوف لڑکی، یہ کوئی بات ہے رونے کی، یہ سب تو ہوتا رہتا ہے‘۔
میرے لیے شاید یہ ایک معمولی بات تھی لیکن اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ بعد میں احساس ہوا کہ نئی نسل جن خطرات میں جی رہی ہے، ہم والدین ان کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ یہ خطرات ہماری نسل کے تجربات سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
ہمارے بچپن کی لڑائیاں گلی محلوں تک محدود تھیں۔ کوئی کسی کو دھکا دے دیتا، بچے آپس میں گتھم گتھا ہوتے اور بات بڑھ جاتی تو بڑے بیچ بچاؤ کرا دیتے۔ کبھی کبھی شدید جھگڑے بھی ہوجاتے، مگر نشان جسم پر پڑتے ذہن پر نہیں۔ وقت بدلا تو والدین میں بچوں کی حفاظت کا جذبہ بڑھا، والدین نے ’زمانہ خراب ہے‘ کا نعرہ لگا کر بچوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ مگر ان بند کمروں کے اندر جو دنیا ان کے ہاتھ میں ہے، وہ دنیا کہیں زور آور ہے۔ یہاں ذہن پر وار کیا جاتا ہے سو جسم پر تشدد کا نشان نظر نہیں آتا مگر ذہنی تشدد کے اثرات بچے کا عمر بھر پیچھا کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل تشدد؛ ایسا نفسیاتی جبر ہے جو کسی کو مسلسل خوف، بے بسی اور جذباتی مفلوجی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کراچی میں ایک انتہائی تشویشناک کیس رپورٹ ہوا۔ پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جو صرف 5 ہزار روپے میں خریدے گئے ’ہیکنگ لنکس‘ کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے موبائل فون ہیک کرتا رہا۔ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر جھانسہ دے کر موبائل فون میں گھس جاتا، تصاویر، ویڈیوز اور نجی معلومات چرا کر بلیک میل کرتا۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس 450 سے زائد ذاتی ویڈیوز اور 100 سے زیادہ خواتین کا مکمل ڈیٹا موجود تھا۔
اور افسوسناک بات یہ کہ اس کے گھر والے بھی اس ’کام‘ سے آگاہ تھے۔
یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد بسے ڈیجیٹل ماحول کا مکروہ چہرہ ہے جہاں ہمارے بچے روزانہ سانس لے رہے ہیں۔ آج کا اصل محاذ ہمارے گھروں کے اندر، ہمارے فونز اور لیپ ٹاپ کی اسکرینوں پر کھل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ زہرہ کیس اور سماج سے سوال
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق صرف سال 2024 میں آن لائن صنفی ہراسانی کے 3 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جن میں اکثریت نوجوان لڑکیوں کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر 18 سال سے کم عمر متاثرین سے متعلق کیسز میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ وہ انسان ہیں جن کی زندگی کسی ایک غلط کلک نے بدل دی۔ کتنے ہی کیس ایسے ہیں جو خوف، بدنامی اور خاموشی کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔
آن لائن تشدد جسمانی تکلیف نہیں دیتا، ذہنی اذیت دیتا ہے۔
سوچیے: اگر کسی لڑکی کی نجی تصویر وائرل ہو جائے، سینکڑوں لوگ اس پر تبصرے کریں تو وہ کس کرب سے گزرے گی؟
بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، خود اعتمادی گر جاتی ہے، نیند ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، ڈپریشن اور انگزائٹی بڑھ جاتے ہیں۔
زیادہ تر بچے والدین کو بتانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں والدین کے غصے، تنقید اور اعتماد مزید خراب کرنے والے جملوں سے زیادہ خوف آتا ہے۔
ہمارے پاس پیکا ایکٹ موجود ہے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی بھی بن چکی ہے، مگر قانون ہونا اور قانون کی عملداری ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے عوام کی آگہی، شکایت کنندہ کے اعتماد، اور اداروں کے تربیت یافتہ اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ اکثر کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ افراد کو یقین نہیں ہوتا کہ ان کے کیس کو رازداری سے نمٹایا جائے گا۔ جو رپورٹ ہوتے ہیں وہ عدالت تک پہنچتے ہی نہیں، اور جو پہنچ جائیں ان میں فیصلہ آنے تک متاثرہ شخص ذہنی طور پر ہار چکا ہوتا ہے۔
بہتری اسی دن آئے گی جب ہم اپنی خاموشی کو مجرموں کی طاقت بنانا بند کر دیں گے۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وکٹم بلیمنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جرم کے بعد سب سے زیادہ سوالات متاثرہ شخص سے کیے جاتے ہیں، جس سے وہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی، قصہ گو سیاستدان
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سنیں، اعتماد دیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان سے مکالمہ کریں۔ انہیں سکھائیں کہ ہر ورچوئل دوست قابلِ اعتماد نہیں، ہر پیغام کا جواب ضروری نہیں، ہر لنک کو کلک نہیں کرنا، آن لائن دوست حقیقی دوست نہیں ہوتے، اور کون سی معلومات کسی سے شیئر نہیں کرنی چاہییں۔ آن لائن ہراسانی، دھونس، بلیک میلنگ اور ڈاکسنگ، یعنی ذاتی معلومات کو افشا کر کے ہراساں کرنا، کی صورت میں فوری کیا اقدامات کرنے ہیں، یہ بھی بتانا ضروری ہے۔
موبائل چھین لینا مسئلے کو چھپانا ہے، حل کرنا نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ ہم بچوں کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی خوف کے بغیر، ہمارے پاس آسکتے ہیں۔
کراچی کے اس کیس میں وہ لڑکی جس نے ہمت کر کے شکایت درج کرائی، اس نے صرف اپنی نہیں، بلکہ درجنوں دوسری لڑکیوں کی زندگیوں کو بھی ممکنہ تباہی سے بچا لیا۔
آخری بات: ہمارے بچوں کی دنیا بدل چکی ہے۔ اگر ہم ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہ چلے تو وہ اس پیچیدہ ڈیجیٹل دنیا میں تنہا رہ جائیں گے اور تنہا بچہ ہمیشہ ان مجرموں کا سب سے آسان شکار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: آؤ کہ کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے
اسی لیے آگہی ہی سب سے پہلی اور سب سے اہم دفاعی لائن ہے؛ ہمارے لیے، آپ کے لیے، ہمارے بچوں کے لیے اور آگہی اور پروفیشنلزم اتنا ہی اہم ہے ان اداروں کے اہلکاروں کے لیے بھی جو ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













