اگر آپ نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ڈیجیٹل کیمرا استعمال کیا تھا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آپ کی زندگی کی کئی تصویری یادیں ہمیشہ کے لیے ضائع ہو چکی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
ماہرین کے مطابق اس دور میں لی گئی لاکھوں تصاویر خراب ہارڈ ڈرائیوز، گمشدہ میموری کارڈز اور بند ہو جانے والی ویب سائٹس کے ساتھ ختم ہو گئیں۔
سنہ2005 سے سنہ 2010 کے درمیان دنیا نے فلم کیمروں سے ڈیجیٹل فوٹوگرافی کی طرف تیزی سے رخ کیا مگر اس وقت تصاویر محفوظ رکھنے کے لیے نہ تو قابل اعتماد کلاؤڈ اسٹوریج موجود تھا اور نہ ہی ڈیجیٹل فائلوں کے تحفظ کا شعور عام تھا۔ نتیجتاً لوگ لیپ ٹاپس، یو ایس بی ڈرائیوز، سی ڈیز اور میموری کارڈز پر انحصار کرتے رہے جو وقت کے ساتھ یا تو خراب ہو گئے یا گم ہو گئے۔
ماہرین اس دور کو ڈیجیٹل فوٹوگرافی کا ’بلیک ہول‘ قرار دیتے ہیں جہاں ایک پوری نسل کی یادیں غائب ہو گئیں۔
ڈیجیٹل کیمرا سیلز سنہ 2005 میں عروج پر پہنچیں مگر سنہ 2010 کے بعد اسمارٹ فونز کے آنے سے یہ رجحان اچانک ختم ہو گیا اور لوگ پرانی تصاویر کی حفاظت کیے بغیر نئی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھتے گئے۔
اس دوران مائی اسپیس، کوڈک ایزی شیئر، اسنیپ فِش اور شٹر فلائی جیسی آن لائن فوٹو سروسز بھی مقبول ہوئیں مگر وقت کے ساتھ کئی پلیٹ فارمز بند ہو گئے یا ڈیٹا ضائع ہو گیا۔
سنہ 2019 میں مائی اسپیس نے اعتراف کیا کہ سرور خرابی کے باعث 12 سال کا ڈیٹا ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے خطرناک استعمال کا انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت صارفین یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی تصاویر ہمیشہ محفوظ رہیں گی حالانکہ ڈیجیٹل ڈیٹا دراصل چند کلکس کے فاصلے پر ختم ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل اسٹوریج اس وقت مہنگا تھا اور کمپنیاں طویل مدت تک مفت ڈیٹا محفوظ رکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔
ماہرین کا انتباہ اور حل
ڈیجیٹل فوٹو آرگنائزیشن کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آج بھی یہی خطرات موجود ہیں۔
ان کے مطابق صرف کلاؤڈ پر انحصار کرنا محفوظ نہیں۔ تصاویر کے تحفظ کے لیے 3-2-1 اصول اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے یعنی 3 کاپیاں، 2 مختلف ذرائع پر اور ایک کاپی کسی الگ فزیکل مقام پر محفوظ ہونی چاہیے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ تصاویر کو باقاعدگی سے ترتیب دینا اور غیر ضروری تصاویر حذف کرنا ضروری ہے کیونکہ تصاویر کی بے تحاشا تعداد بھی یادوں کے تحفظ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘: فوٹوگرافک کمپنی کوڈک 133 سال بعد کاروبار سمیٹنے پر مجبور
الغرض سوشل میڈیا یا آن لائن سروسز ہماری یادوں کی قابل اعتماد محافظ نہیں ہوتیں۔ اپنی تصویری یادوں کی اصل ذمہ داری خود صارفین کو ہی اٹھانی ہوگی ورنہ آج کی تصاویر بھی کل اسی طرح ماضی کا حصہ بن سکتی ہیں۔












