اے ایس پی شہربانو نقوی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جس کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اے ایس پی شہربانو نقوی پوڈکاسٹ کے دوران گفتگو کر رہی ہوتی ہیں کہ اسی اثنا میں انہیں ایس ایچ او کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوتی ہے۔ وہ میزبان سے کہتی ہیں کہ آپ یہیں بیٹھے رہیں ایک قتل کا واقعہ پیش آ گیا ہے میں جلدی سے ہو کر آتی ہوں۔
تقریباً 1 گھنٹے بعد اے ایس پی شہربانو نقوی دوبارہ پوڈکاسٹ میں واپس آتی ہیں جہاں میزبان ان سے پیش آنے والے واقعے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ جواب میں وہ بتاتی ہیں کہ قتل ہو گیا تھا۔ میزبنا نے تفصیلات پوچھیں تو شہربانو نقوی نے بتایا کہ قتل کا واقعہ ڈیفنس فیز 8 میں پیش آیا تھا۔
اے ایس پی کے مطابق واقعے میں ایک شخص نے رقم کے تنازع پر منصوبہ بندی کے تحت اپنے دوست کو قتل کر دیا جبکہ مقتول کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنا لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقتول کے رشتہ دار باہر سے آئے اور فون کالز کا جواب نہ ملا تو انہوں نے دیوار پھلانگ کر اندر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ گھر کی مالکن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جنہوں نے اشاروں کے ذریعے گھر میں موجود ملزم کی نشاندہی کی۔
یہ بھی پڑھیں: اے ایس پی شہربانو نقوی نے کونسا اہم عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا؟
بعد ازاں رشتہ دار فوری طور پر تھانے پہنچے اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دروازہ توڑا اور ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اے ایس پی کے مطابق ملزم ایک بچی کو یرغمال بنائے ہوئے تھا اور اس پر اسلحہ تانے کھڑا تھا جبکہ مقتول کی لاش ڈرائنگ روم سے برآمد ہوئی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اس پوڈکاسٹ کلپ پر مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شمع جونیجو نے لکھا کہ ایک حاضر سروس پولیس افسر اپنی تشہیر کے لیے پوڈکاسٹ کر رہی ہوتی ہے کہ اچانک ایک کال آتی ہے۔ وہ ایف آئی آر درج کرنے اور کیس حل کرنے کے لیے وہاں سے چلی جاتی ہے۔ صرف ایک گھنٹے میں وہ واپس اسٹوڈیو آ جاتی ہیں اور مسکراتے ہوئے اور بے حسی سے کہتی ہے ’قتل ہو گیا تھا‘۔
Serving police officer does podcast for her publicity, then a “call” comes, she leaves to register FIR & to “solve the case”.
Within one hour, yes, only within an hour… she returns back to the studio… smiles & insensitively says:
“Murder hogaya tha.”— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) December 21, 2025
علی نامی صارف نے لکھا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایک پولیس افسر یہ ناٹک کرتی تو اسے نا صرف برطرف کیا جاتا بلکہ جیل ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹے میں ایف آئی آر نہیں لکھی جاتی انہوں نے نا صرف قاتل پکڑ لیا بلکہ وجہ قتل اور ساری کہانی میڈیا پر بتا دی عدالتیں جس کام میں سالوں لگا دیتی ہیں انہوں نے ایک گھنٹے میں کر دیا۔
کسی مہذب معاشرے میں ایک پولیس افسر یہ ناٹک کرتی تو اُسے نا صرف برطرف کیا جاتا بلکہ جیل ہو جاتی ! ایک گھنٹے میں FIR نہیں لکھی جاتی اس نے نا صرف قاتل پکڑ لیا وجہ قتل اور ساری کہانی میڈیا پر بتا دی عدالتیں جس کام میں سالوں لگا دیتی ہیں اس نے ایک گھنٹے میں کر دیا ۔۔ واہ دی دی واہ pic.twitter.com/1loxSxQGWV
— AliZai Vlogs (@alizaihere) December 21, 2025
یہ ویڈیو کلپ دیکھ کر سینیٹر روبینہ خالد کو بھی یقین نہیں آیا کہ یہ ویڈیو حقیقی ہے انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟
Seriously 😳!! https://t.co/J498gL45gt
— Senator Rubina khalid (@RubinakhalidPPP) December 22, 2025
ایک صارف نے سوال کیا کہ یہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہو رہی ہے؟
یہ کسی ڈرامہ کی شوٹنگ ہو رہی ہے یا پولیسنگ ہے ؟ خیر اداکاری 4/10pic.twitter.com/rNJDWWMjEV
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) December 21, 2025
سینیٹر عون عباس بپی نے لکھا کہ مسخروں کے ہاتھ میں ملک آ چکا ہے۔ ایک سٹیج سجا ہوا ہے جہاں اوپر سے نیچے تک سستے ایکٹر بھرے گئے ہیں۔ وزیر ہوں یا مشیر، جج ہوں، پولیس یا بیوروکریٹ سب اپنی اپنی ڈرامےبازی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ محترمہ تو ایکٹنگ میں مریم بی بی کے بھی نمبر کاٹ رہی ہیں۔
مسخروں کے ہاتھ میں ملک آ چکا ہے۔ ایک سٹیج سجا ہوا ہے جہاں اوپر سے نیچے تک سستے ایکٹر بھرے گئے ہیں۔ وزیر ہوں یا مشیر، جج ہوں یا پولیس اور بیوروکریٹ، سب اپنی اپنی ڈرامےبازی میں مصروف ہیں۔ براہِ حال، یہ محترمہ تو ایکٹنگ میں مریم بی بی کے بھی نمبر کاٹ رہی ہیں۔ https://t.co/UEZeKmp7pK
— Senator Aon Abbas Buppi (@AonAbbasPTI) December 21, 2025
طارق متین نے سوال کیا کہ یہ شہر بانو نقوی صاحبہ کیا دوران ڈیوٹی پوڈکاسٹ میں تشریف فرما تھیں؟
یہ شہر بانو نقوی صاحبہ کیا دوران ڈیوٹی پوڈکاسٹ میں تشریف فرما تھیں ؟
pic.twitter.com/5dn4UTkYQA— Tariq Mateen (@tariqmateen) December 21, 2025














