تاجکستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بدھ کی رات پیش آنے والی جھڑپ میں 2 تاجک سرحدی اہلکار ہلاک اور متعدد مسلح افراد مارے گئے۔
تاجک سیکیورٹی کمیٹی کے مطابق واقعہ ضلع شمس الدین شوہین کے قووق علاقے میں پیش آیا، جہاں دہشتگرد سرحد عبور کرکے سرحدی چوکی پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تینوں حملہ آور ایک فوجی آپریشن میں ہلاک ہوگئے جبکہ ہتھیار اور گولہ بارود بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
مزید پڑھیں: تہران میں طالبان مخالف افغان کمانڈر اکرام الدین سری قتل
تاجکستان نے افغان طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنے میں غیر سنجیدہ ہیں اور اپنے بین الاقوامی فرائض پورے نہیں کر رہے۔ سیکیورٹی کمیٹی نے دھمکی دی کہ سرحد پار کی کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
صدر امام علی رحمان نے سرحد کے دشوار گزار علاقوں میں 4 نئی چوکیوں اور ٹینک ٹریننگ سینٹر کے قیام کی منظوری دی، تاکہ سرحد کی حفاظت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تاجک حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر فی الحال حالات پرسکون ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: طالبان دور میں کابل کے ثقافتی ورثے کو ایک اور دھچکا، تاریخی سنیما مسمار
یہ جھڑپ اس سال تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔













