2 دہائیوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد سمندری حیات کے تحفظ سے متعلق ایک اہم عالمی معاہدہ ہفتہ 17 جنوری سے نافذ العمل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے معاہدے پر دستخط کردیے
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ آئندہ برسوں میں سمندری ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس معاہدے کو ملکی حدود سے ماورا حیاتیاتی تنوع کا نام دیا گیا ہے جس کی پابندی اس پر دستخط کرنے والے ممالک پر قانونی طور پر لازم ہو گی۔
یہ معاہدہ ان سمندری علاقوں اور بین الاقوامی سمندری تہہ پر لاگو ہو گا جو کسی بھی ملک کی بحری حدود میں شامل نہیں۔
دنیا کے سمندروں کی سطح کا 2 تہائی سے زائد حصہ اور زمین پر موجود حیاتیاتی زندگی کا تقریباً 90 فیصد انہی علاقوں پر مشتمل ہے کیونکہ سمندر کی گہرائی میں زندگی کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں۔
بی بی این جے کیوں اہم ہے؟
اس معاہدے کا بنیادی مقصد کھلے سمندروں اور بین الاقوامی سمندری تہہ کو اس انداز میں منظم کرنا ہے کہ ان کا استعمال پوری انسانیت کے فائدے کے لیے پائیدار بنیادوں پر ہو سکے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا عالمی سمندری معاہدہ ہے جو جامع سمندری انتظام کو ممکن بناتا ہے جس میں مقامی آبادیوں اور خواتین و مردوں کے درمیان توازن کو یقینی بنانے سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: وزارتِ بحری امور کا سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 9 کروڑ روپے کا منصوبہ
ماہرین کو امید ہے کہ معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد یہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور سمندری آلودگی جیسے عالمی ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
عالمی ردعمل اور قانونی حیثیت
معاہدے پر ہونے والے مذاکرات میں تنزانیہ کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار مزی علی حاجی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی پانیوں کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ان کے مطابق اب کھلے سمندروں میں ہونے والی سرگرمیوں پر واضح کنٹرول ہو گا اور آلودگی یا خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
یہ معاہدہ سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کو مزید مضبوط بناتا ہے جو سنہ 1994 سے سمندروں اور سمندری تہہ کے تحفظ اور استحصال کو روکنے کے لیے اصول و ضوابط مرتب کر رہا ہے۔
بی بی این جے اس فریم ورک میں موجود قانونی خلا کو پُر کرتا ہے اور سمندری انتظام کو موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
نافذ العمل ہونے کا مطلب کیا ہے؟
معاہدے کے نفاذ کے بعد اس پر دستخط کرنے والے 81 ممالک کے لیے اس کی پابندی قانونی طور پر لازم ہو گی اور انہیں اسے اپنی قومی قانون سازی کا حصہ بنانا ہو گا۔
یہ معاہدہ اس وقت نافذ ہو رہا ہے جب کم از کم 60 ممالک اس کی توثیق کر چکے ہیں اور اس شرط کے پورا ہونے کے بعد درکار 120 دن کی مدت بھی مکمل ہو چکی ہے۔
کون سے ممالک شامل ہیں؟
کئی بڑی معیشتیں اس معاہدے کی توثیق کر چکی ہیں جن میں چین، جرمنی، جاپان، فرانس اور برازیل شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: طاقتور بحریہ سمندری تجارت کے تحفظ کی ضامن ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
خصوصاً چین کا کردار اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کی معیشت میں جہاز سازی، آبی زراعت، ماہی گیری اور ساحلی تیل و گیس کی صنعت نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ چین نے 2023 میں تقریباً 155 ارب ڈالر کی سمندری مصنوعات برآمد کیں۔
تاہم امریکا، بھارت، برطانیہ اور روس تاحال اس معاہدے میں مکمل طور پر شامل نہیں ہوئے۔
امریکا نے سنہ 2023 میں معاہدہ اپنایا،مگر سینیٹ کی منظوری ابھی باقی ہے۔
بھارت نے سنہ 2024 میں دستخط کیے تاہم ملکی قانون سازی مکمل نہیں ہوئی۔
برطانیہ نے سنہ 2025 میں قانون سازی پیش کی لیکن پارلیمنٹ نے توثیق نہیں کی۔
روس نے معاہدہ نہ اپنایا اور نہ منظور کیا اس کی وجہ موجودہ انتظامی ڈھانچے اور بین الاقوامی پانیوں میں بحری آزادی کو برقرار رکھنا بتائی گئی ہے۔
آگے کا راستہ
مزی علی حاجی کے مطابق چند بڑی معیشتوں کی عدم شمولیت کے باوجود معاہدے کے اثرات حوصلہ افزا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر اور جزیرہ نما ممالک کو بڑے ممالک کی حمایت درکار ہے اور توقع ہے کہ وقت کے ساتھ مزید ریاستیں اس معاہدے کا حصہ بنیں گی کیونکہ کھلے سمندروں کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ماہرین کے مطابق بی بی این جے کی کامیابی کا دارومدار اس پر عملدرآمد پر ہو گا جس کے لیے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ
معاہدے کے متن کے مطابق اس کے نفاذ کے ایک سال کے اندر پہلا باضابطہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ پیشرفت اور عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔












