کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ واقعے میں درجنوں افراد لاپتا ہیں جبکہ کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جائے حادثہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کی پیشرفت، جانی و مالی نقصانات، متاثرین کے لیے امدادی پیکج اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:خاکستر ہونے والے گل پلازہ میں ٹارچ کی روشنی امید کی کرن
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی آتشزدگی میں اب تک 15 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید لاشیں بھی ملبے سے برآمد ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز 3 مختلف مقامات سے عمارت کے اندر داخل ہوئے ہیں اور انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس دوران ایک فائر فائٹر شہید بھی ہوا، جس پر وزیراعلیٰ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید فائر فائٹر کے والد بھی اسی شعبے سے وابستہ تھے، جو اس قربانی کو مزید قابلِ احترام بنا دیتا ہے۔
Today's fire at Gul Plaza in Karachi has once again starkly revealed the bitter truth that this city is not plagued by accidents, but by persistent neglect. Flames soared high, fear spread, the earnings of hard labor turned to ashes in 1 night. 🇵🇰🔥💔🥺#GulPlazaFire #GulPlaza pic.twitter.com/QfvO5NHLAZ
— Dr Naina Niazi 🧚♀️ (@nainaaniiazi) January 18, 2026
مراد علی شاہ کے مطابق آتشزدگی کے باعث گل پلازہ کی عمارت شدید طور پر کمزور ہو چکی ہے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر پوری عمارت کو گرانے کا فیصلہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تاجربرادری کے ساتھ فوری میٹنگ کی گئی ہے تاکہ موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ان اداروں سے بھی اپیل کی جن کے پاس جدید آلات اور وسائل موجود ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ریسکیو اور بحالی کے عمل میں حکومت کی مدد کریں۔
یہ بھی پڑھیں:فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے
پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ میں ایک ہزار سے 12 سو کے قریب دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی شفاف انکوائری کمشنر کراچی کی سربراہی میں شروع کی جا رہی ہے۔ جو بھی کوتاہیاں سامنے آئیں گی انہیں درست کیا جائے گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وزرا کو ہدایت دی ہے کہ لواحقین کے گھروں میں جاکر ان سے اظہار ہمدردی کریں، متاثرین کی بحالی کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے اور متاثرین کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔













