وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینٹر محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے فنانس ڈویژن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزرا نے صنعت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ٹیکسٹائل شعبے کے اہم چیلنجز حل کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کا افتتاح کر دیا
ملاقات کے دوران وزرا نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہے، کیونکہ یہ برآمدات، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے عزم کو دہرایا کہ ٹیکسٹائل شعبے کی پائیداری کو اقتصادی اصلاحات کے دائرہ کار میں فروغ دیا جائے گا۔
وفاقی وزرا نے کاروباری ماحول کو منصفانہ، شفاف اور قابل پیش گوئی رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ حکومت ایسے شعبوں کے جائز مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ ساختی اصلاحات کو مشاورت اور ادارہ جاتی عمل کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے وفد کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدی صنعتوں کے کاروباری اخراجات کے مسائل پر فعال طور پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی دستیابی اور سستی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں، اور متعلقہ وزارتوں و اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے شعبے کی کارکردگی اور مسابقت کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات صنعتی پیداوار کو سہارا دینے اور قومی معیشت کے طویل مدتی مفادات کے تحفظ کے لیے متوازن انداز میں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری نوعیت کے مسائل پر ترجیحی غور جاری ہے جبکہ وسیع پالیسی امور بجٹ اور اصلاحاتی عمل کے ذریعے آگے بڑھائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی 100 ارب ڈالر ’بلیو اکانومی‘ کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہوگا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
اجلاس میں صنعتی علاقوں میں آپریشنل رکاوٹوں اور سپلائی چین چیلنجز پر بھی بات ہوئی، اور وزراء نے وفد کو یقین دلایا کہ متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون جاری رہے گا تاکہ صنعتی سرگرمیاں بلا رکاوٹ چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان تعمیری رابطہ برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، خاص طور پر موجودہ ملکی اور عالمی اقتصادی حالات میں۔
APTMA کے وفد نے ٹیکسٹائل شعبے کی موجودہ صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے دباؤ سے آگاہ کیا۔ وفد نے بڑھتے ہوئے خام مال کی قیمتوں، توانائی کے اخراجات اور ریگولیٹری و ٹیکس کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ مستحکم اور معاون کاروباری فریم ورک صنعت کی برآمدات اور روزگار کے لیے اہم ہے۔














