سپریم کورٹ نے ایک کلو ہیروئن اسمگلنگ کے مقدمے میں ملزم عبدلودود کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 60 روز کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر 60 روز کے اندر فیصلہ نہ ہوا تو ملزم دوبارہ ضمانت کے لیے دو بار درخواست دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تعلیمی اداروں اور مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن، 6 ملزمان گرفتار
ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کا مقدمہ ضمانت کا فٹ کیس ہے، تاہم نہ کوئی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، نہ شواہد اور نہ گواہ موجود ہیں۔ وکیل کے مطابق اے این ایف ملک کی سپیریئر ایجنسی ہونے کا دعوی کرتی ہے، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ سپیریئر ایجنسی کون ہے یہ بھی طے کرنا ہوگا۔
عدالت کے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ منشیات کے اصل مالکان آج تک پکڑے نہیں گئے۔ عدالت نے کہا کہ مخبر گاڑی سے سمگلنگ کی اطلاع دیتا ہے لیکن اصل مالکان کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا اور گاڑی لوڈ ہونے کے وقت کبھی اطلاع نہیں دی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں:’پشپا‘ طرز کی اسمگلنگ ناکام، 25 لاکھ روپے مالیت کی منشیات برآمد
جسٹس مندوخیل نے مزید کہا کہ عدالت جذبات سے فیصلے نہیں کرتی اور ایک کلو ہیروئن بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے این ایف کا طریقہ پہلے اچھا تھا لیکن اب مؤثر نہیں رہا۔ سرکاری وکیل کے مطابق ایک ٹرک سے مجموعی طور پر دس کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی، جبکہ ملزم عبدلودود پر صرف ایک کلو ہیروئن کے لیے مقدمہ بنایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ 60 روز میں مقدمے کا فیصلہ کرے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی مکمل ہو۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ اس مدت میں فیصلہ نہ کرے تو ملزم دوبارہ ضمانت کے لیے دو بار درخواست دے سکتا ہے۔














