ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا نے ابھی تک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

گزشتہ ہفتے ابتدائی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرنے میں تیزی نہیں دکھا رہے۔

6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر سے ملاقات کی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھے اور عمانی ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے حالانکہ بعد میں تہران نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے مصافحہ کی خبر دی۔

ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے عمان اور بعد میں امریکا کے حلیف قطر کا دورہ کیا تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

مذاکرات کے موضوعات اور عالمی ردعمل

علی لاریجانی نے کہا کہ عمانی دوستانہ رابطوں کے ذریعے امریکی مؤقف سامنے آیا مگر مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ٹرمپ نے عمان مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے مزید ملاقات کا عندیہ دیا تھا لیکن ابھی تک یہ ملاقات عمل میں نہیں آئی۔

ترکی کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے مالیاتی اخبارات کو بتایا کہ یورینیم کی افزودگی کے اہم معاملے پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ مغرب کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران اس سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر اچھی ڈیل کے لیے حالات بنا رہے ہیں مگر ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل اور علاقائی حمایتی گروہوں کے مسائل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کی اندرونی پالیسی اور احتجاجات

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابھی تک سفارت کاری کی کھلے عام حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جو ایرانی قوم کو اپنے منصوبوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ناکام ہوئے۔

امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنوری کے احتجاجات میں 7,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مظاہرین کی تھی۔

امریکی فوجی دباؤ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کی قیادت میں نیول گروپ بھیجا، جسے ٹرمپ نے آرماڈا کہا۔ تاہم ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ ممکنہ ڈیل کو دیکھا جا سکے۔

سفارت کاری یا وقتی حکمت عملی؟

راس ہیرسن، مشرق وسطیٰ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو، کے مطابق یہ مذاکرات ایران کے لیے وقت خریدنے کی کوشش ہیں تاکہ میزائل پروگرام کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے بقول مذاکرات کا حقیقی ہدف امریکا نہیں بلکہ خلیجی عرب ممالک ہیں جو فوجی کارروائی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

حالیہ صورتحال میں اسرائیل زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات صدر ٹرمپ کو حقیقی سفارتی راہ اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

ایران مذاکرات میں شرکت کر کے اچھے ارادے کا مظاہرہ کر رہا ہے مگر حقیقی ہدف امریکا کے بجائے خطے کے اتحادی ممالک ہیں جو ممکنہ فوجی حملے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت سے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کا بھرپور ٹریننگ سیشن

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟