وفاقی حکومت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جاری بحث کے دوران وفاقی حکومت نے ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دے دیا ہے، جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔
وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے 2 ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں، جو کچھ ہی دیر میں بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کریں گے۔
بانی پی ٹی آئی کا آنکھوں کے بہترین اسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا، عطاتارڑ
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے کون سے اسپتال منتقل کیا جائے گا، اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا آنکھوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد نظر جانے کی کوئی بات نہیں تھی، ڈاکٹرز نے کنفرم کیا تھا کہ ان کی آنکھ کے ساتھ سیریس ایشو نہیں ہے۔ ان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں کس اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطہ، 20منٹ تک بات چیت ہوئی،علیمہ خان نے تصدیق کر دی
انہوں نے کہا کہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان کی آنکھ کا مکمل علاج اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے کروایا جائے گا۔ عمران خان کو جیل میں جو سہولیات حاصل ہیں وہ کسی اور قیدی کو میسر نہیں، جیل میں کسی قیدی کے پاس ٹریڈمل اور ورزش کے لیے بائیسیکل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بروقت علاج ہوگا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ عمران خان کے لیے کوئی ڈیل کا معاملہ کیا جا رہا ہے، جس سے ہر کوئی مطمئن ہوگا۔ ان کی صحت پر سیاست نہ کرنا چاہتے ہیں، نہ کرنی چاہیے۔ ان کو پروسیجر کے تحت بروقت علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معائنے کے لیے بہترین طبی ماہرین کی رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ صحت سے متعلق قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ ہے لیکن کوئی جانی خدشہ نہیں۔ کوشش ہے بہترین آئی اسپیشلسٹ سے ان کا علاج کروایا جائے۔
Pursuant to ongoing eye treatment of Imran Khan; further check up and treatment will be done in a specialised medical facility by best eye specialists. A detailed report thereof will also be submitted in the Supreme Court. Conjecture, speculations and efforts to turn this into…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 14, 2026
اس سے قبل عطاتارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ معاملہ شفاف اور قانونی دائرے میں رہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران نے نواز شریف کو باہر بھیجا، آپ بانی پی ٹی آئی کو بھیج دیں، علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم سے مطالبہ
دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے عمران خان کی فون پر بیٹوں قاسم اور سلمان سے بات کروانے کا حکم دیا تھا، اب ہم تصدیق کررہے ہیں کہ عمران خان سے بیٹوں کی فون پر بات کروا دی گئی ہے۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان تقریباً 20 منٹ تک اپنے بچوں سے بات کرسکے۔ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد والد کی آواز سن کر عمران خان بے حد خوش ہوئے۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عمران خان کی بینائی بحال ہوسکے۔
علیمہ خانم نے خبردار کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر پہلے ہی عمران خان کی بینائی کو نقصان پہنچا چکی ہے اور مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کی فوری دیکھ بھال ناگزیر ہے تاکہ مستقل بینائی کے نقصان سے بچا جاسکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کو ان کی صحت کے حق کے مطابق ہر ممکن طبی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔














