وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ ہفتے عمران خان کی رہائی کے لیے ’فری عمران فورس‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ تاہم آج اس حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایسے گروپ کا قیام جسے ’ فورس‘ کہا جائے، خصوصاً اگر اس کے ارکان سے کسی سیاسی مقصد کے لیے حلف لیا جائے، تو اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اقدام عسکریت پسندی کے دائرے میں بھی شمار ہو۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک ہونا ضروری ہو تو اس مقصد کے لیے صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح پر قانونی و سیاسی کمیٹیاں قائم کی جائیں، جیسا کہ ماضی کی سیاسی تحریکوں میں کیا جاتا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں آئینی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کو سونپی ہے، اور وزیراعلیٰ نے ’فری عمران فورس‘ کے قیام کا اعلان خود کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں بعض قانونی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں جن کا پارٹی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، لیکن یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جو غیر قانونی، غیر جمہوری یا آئین کے منافی ہو۔
یہ بھی پڑھیے وی ایکسکلوسیو: عمران خان سے ملاقاتیں پیچیدگیاں ختم کریں گی، حکومت معاملات آگے بڑھائے، بیرسٹر گوہر
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی جدوجہد کا راستہ پُرامن اور آئینی ہوگا اور ہر وہ فورم استعمال کیا جائے گا جو قانون کے دائرے میں دستیاب ہے۔ ان کے مطابق عمران خان یا پارٹی کی جانب سے کبھی بھی غیر آئینی اقدام نہیں کیا گیا، اور آئندہ بھی تمام فیصلے قانون کے مطابق ہوں گے تاکہ کسی ممکنہ اقدام کا اثر عمران خان کے مستقبل یا ان کے زیرِ سماعت مقدمات پر نہ پڑے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے رکن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی مینا خان آفریدی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’عمران خان رہائی فورس‘ نہیں بلکہ ’عمران خان رہائی امن فورس‘ کے قیام پر مشاورت جاری ہے۔ اس فورس کی رکنیت ہر گلی، محلے، قصبے اور چوک چوراہے تک بڑھائی جائے گی، جس کا مقصد لوگوں کو پُرامن اور جمہوری طریقے سے متحرک کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
مینا خان آفریدی کے مطابق اس فورس کا مقصد آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے مقدمے کو عوام کے سامنے پیش کرنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی تک مرکزی قیادت کو مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، تاہم اس معاملے کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی میں زیرِ بحث لا کر تمام رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا۔














