بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے پِلکھانہ قتلِ عام کو جدید تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
منگل کے روز بنانی ملٹری قبرستان میں قومی یومِ شہدائے فوج کے موقع پر پھولوں کی چادریں چڑھانے کے بعد وزیر داخلہ نے کہا کہ شہدا کے اہلِ خانہ اور پوری قوم کو قانونی طور پر مکمل انصاف ملے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان ہلاکتوں کو بنگلہ دیش آرمی کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: مزید 1,202سیاسی مقدمات واپس لینے کی منظوری
وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ ایسا اقدام صرف وہی قوتیں کر سکتی ہیں جو ملک کی آزادی اور خودمختاری کی مخالف ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، تاہم اس کی رپورٹ کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔
بعد ازاں ایک عبوری حکومت کے دوران ایک قومی آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا جس نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی، مگر اس کی سفارشات پر عمل درآمد محدود رہا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش حکومت نے 9 سیکریٹریز کی کنٹریکٹ تقرریاں منسوخ کردیں
’ہم نیا تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں کریں گے۔ عبوری حکومت پہلے ہی اہل اور باصلاحیت افراد پر مشتمل کمیشن مقرر کر چکی تھی۔ زیرِ التوا مقدمات میں عدالتی کارروائی مکمل کی جائے گی جبکہ دیگر سفارشات پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔‘
’وہ افراد جنہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ قومی یومِ شہدائے فوج کی تقریبات سرکاری اعزاز کے ساتھ منعقد کی گئیں، جن میں صدر، وزیر اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام، بارڈر گارڈ اکے اہلکاروں سمیت شہدا کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔












