وزیراعظم کا آئندہ بجٹ میں براہِ راست ٹیکس کم کرنے کا عندیہ، کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کا اعلان

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ صارفین سے وصول کیے جانے والے بالواسطہ ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع نہیں ہو رہے، جو قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے براہِ راست ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو یقین ہونا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں کے باعث ان کا سرمایہ متاثر نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم اب توجہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے آئندہ بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی کمی کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے کہا کہ جون 2023 میں پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، مگر مشترکہ کاوشوں سے دو برسوں میں معاشی صورتحال مستحکم کی گئی۔ ان کے مطابق مہنگائی جو 35 فیصد کے قریب تھی، اسے کم کرکے 7 فیصد سے نیچے لایا گیا جبکہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تک آچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد

وزیراعظم نے بتایا کہ بعض اصلاحات حکومت کی اپنی ضرورت کے تحت کی گئیں اور ان میں آئی ایم ایف کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بجلی کے شعبے میں فی یونٹ قیمت میں 9 روپے کمی کی گئی جبکہ سولر سرمایہ کاری کو بھی تحفظ دیا گیا۔ انہوں نے بجلی چوری سے سالانہ 200 ارب روپے کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکومتی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

انہوں نے یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کو بدعنوانی سے آلودہ ادارے قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کو قومی خزانے کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ مزید کہا کہ رمضان پیکیج کے تحت 38 ارب روپے مستحق افراد کو ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے شفاف انداز میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ نجی شعبے، برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کو سہولت دینا ہے تاکہ پاکستان جلد معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!