کراچی: سائٹ ایریا کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو، بڑے نقصان سے بچاؤ

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ ایریا میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے والی آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد کے مطابق آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا تھا اور اسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 14 گاڑیاں، واٹر ٹینکرز اور اسنارکل استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کے علاقے صدر میں موبائل مارکیٹ میں آگ بھڑک اٹھی

فائر بریگیڈ نے ابتدائی طور پر فیکٹری میں موجود بوائلر کو محفوظ کیا تاکہ کسی ممکنہ دھماکے سے بڑا نقصان نہ ہو۔ فیکٹری میں کپڑا ڈائی کرنے کے کیمیکل بھی موجود تھے، جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانا اہم تھا۔ چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ آگ پر تقریباً 80 فیصد کنٹرول حاصل کر لیا گیا تھا اور مکمل قابو چند گھنٹوں میں ممکن ہوا۔

آئی جی سندھ نے پولیس کو ہدایت دی کہ متاثرہ فیکٹری اور اطراف کے علاقے محفوظ بنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ انہوں نے صوبے بھر کی فیکٹریوں میں کیمیکلز کے ذخائر اور استعمال کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کا بھی حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان