رمضان المبارک کا آغاز سعودی عرب میں ثقافت کو اپنانے، اس مقدس مہینے کی روحانی اہمیت کو سمجھنے اور مملکت میں احترام و یکجہتی کے ساتھ زندگی گزارنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔
گزشتہ 3 برس سے سعودی عرب میں مقیم ربیکا کزنز نے بتایا کہ ان کے لیے رمضان سال کا سب سے پرجوش وقت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ
ان کے مطابق دن کے اوقات نسبتاً پرسکون ہوتے ہیں، سڑکوں پر رش کم ہو جاتا ہے۔
’لیکن شام ہوتے ہی فضا بدل جاتی ہے۔ چاہے کسی ریستوران میں افطار کرنا ہو یا کسی دوست کے گھرروزہ کھولنے کی دعوت ملے، ہر لمحہ خاص بن جاتا ہے۔‘
رمضان کی اہمیت کیا ہے؟
رمضان اسلامی قمری تقویم کا 9واں اور سب سے مقدس مہینہ ہے، جس میں دنیا بھر کے مسلمان 610 عیسوی میں حضرت محمدؐ پر قرآن کریم کے پہلے نزول کی یاد میں روزے رکھتے ہیں۔

یہ عبادت، ضبطِ نفس، روحانیت اور خیرات کا مہینہ ہے، اس دوران مسلمان فجر سے مغرب تک کھانے، پینے، تمباکو نوشی اور ازدواجی تعلقات سے اجتناب کرتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں بھی عموماً سست ہو جاتی ہیں اور لوگ عبادت میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔
ہمدردی اور احترام کی ضرورت
پوڈکاسٹ ’سعودی لائف: اَن پیکڈ‘ کی شریک بانی للی موفاٹ کے مطابق رمضان میں ہمدردی کے جذبے کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تبدیل شدہ اوقاتِ کار یا دن میں تھکن کو مسئلہ بنانے کے بجائے اس مہینے کے روحانی پہلو کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ خاص طور پر دوپہر کے وقت روزہ رکھنا صبر اور خود پر قابو کا تقاضا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی رمضان تیاری، 22 لاکھ زمزم بوتلوں کا اسٹریٹجک ذخیرہ تیار
انہوں نے مشورہ دیا کہ روزہ داروں کے سامنے کھانے پینے سے گریز کریں اور رمضان سے متعلق گفتگو میں محتاط لہجہ اختیار کریں۔
ان کی ساتھی فرینکی ہلٹن کا کہنا ہے کہ غیرمسلم افراد کو رمضان کے ہر لمحے کو قبول کرنا چاہیے۔ افطار یا سحری کی دعوت قبول کریں، دوستوں سے سوال کریں کہ کھجور سے روزہ کیوں کھولا جاتا ہے اور وہ کس عمر سے روزہ رکھ رہے ہیں۔ ’یہ سیکھنے اور نئے تجربات اپنانے کا وقت ہے۔‘
افطار اور سحری کی روایات
رمضان کے دوران اکثر سعودی گھروں میں افطار یا سحری کی دعوت دی جاتی ہے۔

ربیکا کزنز کے مطابق ایسی ہر دعوت قبول کرنی چاہیے، چاہے ریستوران میں ہو یا کسی گھر میں۔ ’اگر پہلی بار تجربہ ہو تو ایک دن روزہ رکھ کر پانی کے پہلے گھونٹ اور کھجور کی مٹھاس میں شریک ہونا یادگار لمحہ بن سکتا ہے۔‘
ربیکا کزنز کے مطابق تحفے کے طور پر خالی ہاتھ نہ جائیں۔ کھجور، مٹھائی، بسکٹ یا سموسے لے جانا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ ’اگر آپ کھانا بنانے میں ماہر ہیں تو دال کا سوپ، جریش، ہریس یا الحب جیسی روایتی ڈش بھی پیش کی جا سکتی ہے۔‘
رمضان کی مبارکباد کیسے دیں؟
رمضان میں عام طور پر ’رمضان کریم‘ یا ’رمضان مبارک‘ کہا جاتا ہے۔ جواب میں آپ بھی یہی الفاظ دہرا سکتے ہیں یا ’بارک اللہ فیک‘ کہہ سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے ’اللہ آپ کو بھی برکت دے‘۔
سادہ الفاظ جیسے ’آپ کو بھی رمضان مبارک‘ کافی ہیں کیونکہ اصل اہمیت نیت اور انداز کی ہے۔
کن سوالات سے گریز کریں؟
کچھ سوالات یا جملے غیر مناسب سمجھے جا سکتے ہیں، مثلاً پانی بھی نہیں، یا پھر’اگر چپکے سے کچھ کھا لیں تو کون جانے گا‘ یا ’آپ تو بہت وزن کم کر لیں گے۔‘
اسی طرح روزہ دار کے سامنے کھانا پینا یا سگریٹ نوشی کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں، خاص طور پر عوامی مقامات پر۔ یہ قانونی سے زیادہ باہمی احترام اور یکجہتی کا معاملہ ہے۔

رمضان کی خاص بات اس کی روشنی، خاندانی تعلقات کی مضبوطی اور رات کے بازاروں کی چہل پہل ہے۔ اندھیرا چھاتے ہی شہر زندہ ہو اٹھتے ہیں۔ رمضان ٹینٹس، خصوصی پکوانوں سے سجے بازار اور منفرد تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
جدہ کے تاریخی علاقےالبلاد کی تقریبات ہوں یا ریاض اور مشرقی صوبے کے روایتی بازار، ہر جگہ روحانی اور ثقافتی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔
خیرات اور سماجی خدمت
رمضان سخاوت کا مہینہ ہے، بہت سے خاندان اس دوران صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ مستند احسان پلیٹ فارم کے ذریعے عطیات دیے جا سکتے ہیں یا افطار کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔
افطار کے وقت اکثر لوگ کھجور اور پانی تقسیم کرتے نظر آتے ہیں، غیر مسلم افراد بھی اپنی گاڑی میں ٹھنڈا پانی، کھجور یا لَبَن رکھ کر گھر جانے والوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، یہ چھوٹے اقدامات بڑی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔
صبر، برداشت اور نیا تجربہ
رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ منفی خیالات اور برے رویوں سے بھی پرہیز کا مہینہ ہے۔ چاہے آپ مسلمان ہوں یا نہیں، بہت سے غیر ملکی مقیم افراد صحت اور روحانی مضبوطی کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔

آخر میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود کو نئے تجربات کے لیے آمادہ رکھیں کیونکہ رمضان میں پورا شہر ایک روحانی لمحے کے گرد اپنی رفتار بدل لیتا ہے، جو ایک نایاب منظر ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا
’افطار کے بعد سیر کریں، دعوتیں قبول کریں، رمضان ٹینٹس دیکھیں اور اس اجتماعی فضا کو محسوس کریں۔‘
رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی ہمیشہ تیز رفتاری سے نہیں گزرتی؛ اصل خوبصورتی مشترکہ لمحات، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام میں ہے۔













