فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پاکستان اور افغانستان کی طالبان رجیم کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم غیر قانونی و غیر نمائندہ حکومت اور دہشتگردوں کی پشت پناہ ہے، عطا اللّٰہ تارڑ
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو جو چیزیں جوڑتی ہیں وہ عارضی اختلافات سے کہیں زیادہ اہم ہیں، اور اسی وجہ سے فریقین کو چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ اس میں قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اختلافات کو ختم کرنا اور امن و استحکام کے قیام کے ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب صیہونی ریاست غزہ میں اپنے جرائم کے بعد عالمی تنہائی کو توڑنے کے لیے نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے، امت مسلمہ کے لیے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں اسلامی ممالک کو باہمی تعاون اور تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔














