بنگلہ دیش: عوامی لیگ بتدریج سیاسی واپسی کے اشارے دینے لگی، مقامی دفاتر دوبارہ فعال

ہفتہ 28 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی سابق حکمران جماعت، عوامی لیگ، جو باضابطہ طور پر پابندی کا شکار ہے، نے مقامی دفاتر دوبارہ کھول کر اور گرفتار رہنماؤں کے مقدمات کی پیش رفت پر نظر رکھ کر محتاط انداز میں سیاسی واپسی کے اشارے دینا شروع کر دیے ہیں۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق حالیہ پارلیمانی انتخابات کے 2 ہفتے بعد ملک کے مختلف اضلاع میں ایک درجن سے زائد عوامی لیگ کے دفاتر کے تالے کھولے گئے۔ کچھ علاقوں میں حمایتی دفاتر کے باہر جمع ہو کر نعرے لگاتے رہے، تاہم باضابطہ طور پر دفاتر دوبارہ فعال نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی کو 50 فیصد کے قریب ووٹ، حکومت سازی کی تیاری

پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نئی حکومت کے ردعمل کو جانچنے اور قانونی و سیاسی ماحول کے آہستہ آہستہ کھلنے کا اندازہ لگانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ عوامی لیگ کی سرگرمیاں عبوری حکومت نے 10 مئی 2025 کو ممنوع قرار دی تھیں، جب پارٹی کی حکومت 5 اگست 2024 کو عوامی بغاوت کے بعد ختم ہوئی تھی۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور کئی سینئر رہنماؤں نے بعد ازاں بھارت میں پناہ لی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق حسینہ نے بھارت سے ہدایات جاری کی ہیں کہ ضلع اور میٹرو سطح پر محدود تنظیمی سرگرمیاں آہستہ آہستہ دوبارہ شروع کی جائیں۔ درمیانی اور نچلی سطح کے رہنما دفاتر دوبارہ کھولنے کی قیادت کر رہے ہیں۔

ایک اور اہم عنصر گرفتار رہنماؤں کی رہائی ہے۔ کئی نچلی سطح کے رہنما پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں، لیکن سینئر رہنما اور سابق قانون ساز رہائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ ضمانتیں پارٹی میں حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: چترا لیگ کے کارکنوں کا عوامی لیگ کے دفتر پر دھاوا، 5 گرفتار

نئی منتخب حکومت، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی یعنی بی این پیکی قیادت میں، عوامی لیگ پر پابندی برقرار رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے کہا کہ قانونی طور پر پارٹی کی سرگرمیاں اب بھی ممنوع ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ محدود علامتی موجودگی کے ذریعے زمین پر اپنے ووٹر بیس کو برقرار رکھنے اور گرفتار رہنماؤں کے حوالے سے قانونی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ابتدائی دفاتر کی دوبارہ افتتاحی تقریبات میں شیخ مجیب الرحمن کے پورٹریٹ اور قومی پرچم بھی دکھائے گئے، تاہم ڈھاکا کے بڑے دفاتر اب بھی خراب اور ترک شدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقی طور پر پارٹی کی مکمل تنظیمی واپسی کے لیے اندرون ملک قیادت کی بحالی ضروری ہوگی، کیونکہ زیادہ تر سینئر رہنما بیرون ملک موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان