ڈھاکہ کی سیاست میں غیر معمولی پیشرفت،وزیر اعظم طارق رحمان کی جماعتِ اسلامی کے افطار میں شرکت

ہفتہ 28 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے ہفتہ کی شام دارالحکومت میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے زیر اہتمام منعقدہ افطار تقریب میں شرکت کر کے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔ حالیہ قومی انتخابات کے بعد بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں اسے ایک غیر معمولی اور علامتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار

افطار کی تقریب بنگلہ دیش۔چین فرینڈشپ کانفرنس سینٹر واقع اگرا گاؤں میں منعقد ہوئی جہاں وزیر اعظم نے اپوزیشن رہنما شفیق الرحمان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر افطار کیا۔ مبصرین کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی برسرِ اقتدار وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعت کے پروگرام میں اس نوعیت کی شرکت کی ہو۔

اتحاد اور جمہوری پیشرفت پر زور

افطار سے قبل مختصر خطاب میں وزیر اعظم طارق رحمان نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اللہ کے نام پر عہد کریں کہ ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قوم حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے اور یہ جمہوریت کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام نے جمہوری حقوق کی جدوجہد میں برسوں جبر، جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں کا سامنا کیا، مگر بڑی قربانیوں کے بعد اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری سیاست کا حق دوبارہ حاصل کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے دعوت پر جماعتِ اسلامی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپوزیشن کا مؤقف

جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے اپنے صدارتی خطاب میں 2013 میں اسلامی اسکالر دلاور حسین سعیدی کے خلاف فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ملک میں ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے ماضی کے ’ڈمی انتخابات‘ پر تنقید کی اور امید ظاہر کی کہ نئی پارلیمان بامعنی کردار ادا کرے گی جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں تعمیری انداز میں کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ایک پہیے پر نہیں چل سکتی، اگر حکومت اگلا پہیہ ہے تو اپوزیشن پچھلا پہیہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملکی مفاد میں حکومتی اقدامات کی حمایت کی جائے گی، تاہم ناانصافی پر آواز بھی بلند کی جائے گی۔ انہوں نے 2013 کے حالات کے دوران سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے مؤقف پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

اہم سیاسی شخصیات کی شرکت

تقریب میں حکمران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سینئر رہنما مرزا عباس اور ڈاکٹر معین خان سمیت متعدد رہنما شریک ہوئے۔ کابینہ اراکین میں وزیر داخلہ صلاح الدین احمد اور وزیر تعلیم اے این ایم احسان الحق میلون بھی موجود تھے۔

دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین، نومنتخب ارکانِ پارلیمان، دانشور، کاروباری شخصیات اور صحافیوں نے بھی افطار میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی میزبانی میں وزیر اعظم کی شرکت حالیہ انتخابات کے بعد بنگلہ دیش میں ابھرتی ہوئی نئی سیاسی حرکیات کا اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان