امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic کو قومی سلامتی کے لیے سپلائی چین رسک قرار دیا ہے، جو امریکی دفاعی تاریخ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف غیر معمولی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون کا ’قاتل اے آئی‘ منصوبہ، کیا دنیا کو تشویش ہونی چاہیے؟
یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے بعد عمل میں آیا، جس میں تمام وفاقی اداروں کو کمپنی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔
پینٹاگان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے فوجی معاہدوں میں موجود حفاظتی حدود میں نرمی لانے کی درخواست مسترد کی، خاص طور پر بڑے پیمانے پر داخلی نگرانی اور مکمل خودکار ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق پابندیوں کو ہٹانے کے حوالے سے۔
امریکی دفاعی حکام نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کمپنی کے یہ اقدامات فوجی آپریشنز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
اس فیصلے کے تحت اب کوئی بھی فوجی ٹھیکیدار، سپلائر یا پارٹنر Anthropic کے ساتھ تجارتی سرگرمی نہیں کر سکے گا، اگرچہ کمپنی کو 6 ماہ تک خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ فوجی نظام متبادل فراہم کنندگان پر منتقل ہو سکیں۔
Anthropic امریکی کمپنیوں میں واحد تجارتی اے آئی ڈویلپر ہے جس نے پینٹاگان کے خفیہ نیٹ ورکس پر اعلیٰ سطح کے لینگویج ماڈلز فراہم کیے، جنہیں انٹیلی جنس تجزیے اور فوجی منصوبہ بندی میں استعمال کیا گیا، جس میں وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی بھی شامل تھی۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟
حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پینٹاگان بلکہ دفاعی نیٹ ورک کے وسیع معاہدوں پر بھی اثر ڈالے گا اور ٹیکنالوجی صنعت میں اس کے ممکنہ اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔














