عمران خان سے ظہیر عباس تک: بڑا ہے درد کا رشتہ

اتوار 1 مارچ 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ دنوں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 14 سابق کرکٹ کپتانوں نے حکومتِ پاکستان کے نام کھلی چٹھی لکھی اور ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیاکہ جیل میں قید عمران خان کے علاج معالجے میں غفلت برتی گئی ہے۔ اس خط میں عمران خان کو بہتر طبی سہولتیں دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ انہیں اپنی پسند کے اسپشلسٹ ڈاکٹروں سے فوری اور مناسب علاج کروانے کی سہولت فراہم کی جائے اور اہل خانہ سے ملاقات بھی کروائی جائے۔

علاوہ ازیں غیر ضروری تاخیر و رکاوٹ کے بغیر انہیں صاف اور شفاف قانونی عمل تک رسائی حاصل ہو۔ خط میں قید کے دوران عمران خان کے لیے بین الاقوامی معیارات کے مطابق مہربان اور باوقار ماحول کا تقاضا بھی کیا گیا۔

اس مشترکہ بیان میں کرکٹ میں عمران خان کی خدمات کا تذکرہ بھی ہے۔

اس خط کے محرّک آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل ہیں۔ انہی نے خط کا متن تیار کیا۔ کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو پر مضمون میں انہوں نے اس اقدام کا پس منظر اور جواز بیان کیا ہے۔ عمران خان سے اپنے تعلق کے بارے میں لکھا ہے، ان کی خوبیاں بیان کی ہیں، ان سے ناانصافی پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہاکہ اپنے ایک ساتھی سے ہونے والے برے سلوک پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ کپتانوں کے مثبت اور برق رفتار ردِعمل سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ انہیں سب سے بڑھ کر سنیل گواسکر اور کپیل دیو کا ردعمل اہم لگا جنہوں نے پاکستان سے انڈیا کے تعلقات کی خرابی کے باوجود عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے پر فوراً رضامندی ظاہر کی۔

گریگ چیپل کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متحرک ہونا اور اپنے انسان دوست خیالات پر دوسرے کپتانوں سے مہرِ تصدیق ثبت کرانا لائقِ تحسین ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے سابق کپتانوں کی جانب سے عمران خان کی صحت کے مسئلے پر منظم آواز نہ اٹھانے پر بھی سوال بنتا ہے مثلاً جس بات کا گریگ چیپل کو خیال آیا ہے وہ عمران خان کے دور میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہنے والے رمیز راجا کو کیوں نہیں سوجھی؟ وہ عمران خان کے دور میں قومی ٹیم کا حصہ رہے، پاکستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ کمنٹیٹر ہیں۔

وہ عام حالات میں عمران خان کی عظمت کا ترانہ اونچے سروں میں گاتے رہے ہیں جس کی حدیں بعض اوقات خوشامد سے جا ملتی تھیں۔ ان کا نام ذہن میں سب سے پہلے اس لیے آیا کہ وہ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین رہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے یہ کام دوسروں کی بہ نسبت زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے تھے لیکن ان کی طرف سے بس ایک روایتی سا بیان ہی سامنے آسکا۔

اب پاکستان کے دوسرے کپتانوں کی بات کر لیتے ہیں جن کا عمران خان سے تعلق رہا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں عمران خان کے پہلے کپتان انتخاب عالم تھے۔ مشتاق محمد کی کپتانی میں عمران خان کی عظمت کا سفر شروع ہوا تھا۔ پہلے دو ورلڈ کپ مقابلوں میں وہ آصف اقبال کی کپتانی میں شریک ہوئے۔

عمران خان کے دو خالہ زاد بھائی جاوید برکی اور ماجد خان بھی پاکستان کے کپتان رہے ہیں۔ جاوید میانداد سے عمران خان کا دیرینہ تعلق ہے۔ عمران خان کی بیماری کی خبریں آنے کے بعد بھی ان سب میں تشویش کی لہر نہیں اٹھی۔ وسیم اکرم اور وقار یونس نے رسمی بیان دیا جسے آپ پنجابی محاورے میں ’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا‘ کہہ سکتے ہیں۔

سلیم ملک، سعید انور، عامر سہیل، انضمام الحق اور معین خان نے بھی خاموش رہنے میں عافیت جانی۔

پاکستان کے ان سب کپتانوں پر 14 بین الاقوامی کپتان بازی لے گیے جس میں سے سنیل گواسکر اور کپیل دیو نمایاں تر ہیں جو اپنوں پر غیروں کی سبقت کی دوسری دفعہ مثال بنے ہیں۔

کچھ دن پہلے معروف شاعر اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری حارث خلیق نے گزشتہ برس لندن میں ظہیر عباس سے اپنی ملاقات کا احوال سناتے ہوے بتایا کہ بیماری کے دنوں میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے اور پاکستانی کرکٹرز کی بے اعتنائی سے رنجیدہ خاطر تھے۔

اس مشکل وقت میں سنیل گواسکر اور کپل دیو خاص طور پر لندن میں ان کی خیریت دریافت کرنے پہنچے اور ان کی دلجوئی کی۔

گواسکر اور کپل دیو نے عمران خان کے کھیل اور ان کی فائٹنگ سپرٹ کو قریب سے دیکھا ہے۔ کھلاڑی اور کپتان کی حیثیت سے وہ اس کے ’وکٹم‘ بھی رہے، ان سے کپتان کے طور پر ٹاکرے میں عمران خان کا پلا بھاری رہا۔

سنہ 83-1982 میں گواسکر کی کپتانی میں پاکستان آنے والی انڈین ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں شکست ہوئی تو قومی ٹیم کی زمامِ کار عمران خان کے ہاتھوں میں تھی۔

1987 میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے انڈیا کو اس کی سرزمین پر چت کیا تو مدمقابل کپتان کپل دیو تھے۔ ان دونوں ٹیسٹ سیریز میں پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز عمران خان کے حصے میں آیا تھا۔ اسی طرح ظہیر عباس نے انڈیا کے خلاف رنز کے انبار لگائے جس کی وجہ سے انڈین بولرز استہزا کا نشانہ بنے۔

یہ کرکٹ کا کھیل ہی ہے جس میں ہارنے والا ساری زندگی زخم نہیں چاٹتا رہتا بلکہ وہ حریف کپتان اور کھلاڑی کے ساتھ میچ کے بعد دوستانہ تعلقات استوار کرتا ہے اور کرکٹ چھوڑنے کے بعد بھی عشروں تک ہمدمی برقرار رکھتا ہے جس پر زمانے کے حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ گریک چیپل کے بقول ’کرکٹ اپنی حقیقی صورت میں محض رنز اور وکٹوں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ ان لوگوں کے کردار کے بارے میں ہے جو اسے کھیلتے ہیں اور اس دیرپا احترام سے متعلق ہے جو کھیل ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔‘

گواسکر اور کپل دیو نے تو عمران خان کی کرکٹ میں کارگزاری میدانِ عمل میں براہ راست مشاہدہ کی تھی لیکن عمران خان کا اثر تو انڈیا کے ان کپتانوں نے بھی قبول کیا جو کبھی ان کے مدمقابل نہیں آئے۔ ان میں سارو گنگولی بھی شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کے حق میں 14 کپتانوں کے بیان کی تائید کی ہے۔

عمران خان ان کی جوانی کے ہیرو تھے، ان کے بارے میں بی بی سی اردو پر معروف صحافی عبدالرشید شکور نے اپنے عمدہ مضمون میں گنگولی کی آپ بیتی کے حوالے سے بتایا ہے کہ کس طرح کرکٹ کیریئر کے ایک نازک مرحلے میں عمران خان نے انہیں نامساعد حالات میں اونچی پرواز کا رستہ دکھایا اور ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔

عمران خان کے الفاظ کا گنگولی پر جادوئی اثر ہوا، ستم ظریفی یہ کہ انہوں نے کامیابی کے نئے سفر کا آغاز پاکستان کے خلاف بے مثال کارکردگی سے کیا۔

جس طرح عمران خان اور ظہیر عباس کی بیماری کے معاملے میں سنیل گواسکر اور کپل دیو کا نام ایک ساتھ آیا ہے، اس طرح گنگولی کی آپ بیتی میں عمران خان اور ظہیر عباس کا تذکرہ بہی خواہ کھلاڑیوں کے ذیل میں آیا ہے۔

عمران خان کے ان کے کیریئر پر مثبت اثرات کے بارے میں آپ اوپر پڑھ چکے ہیں۔ ظہیر عباس نے کرکٹ میں ان کی ترقی میں کیا اہم کردار ادا کیا اس کے لیے عبدالرشید شکور کے مضمون میں گنگولی کے نقل ہونے والے اس بیان کو دیکھنا ہو گا:

’زیڈ بھائی نے اپنے وسیع تجربے سے میری مشکل حل کردی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں تیز بولرز کو کھیلتے وقت زیادہ سیدھا کھڑا رہوں۔ سائیڈ آن رہنے کے بجائے سینہ سامنے رکھتے ہوئے زیادہ سیدھا رہوں، میری گرپ خود بخود بدل گئی۔‘

’ اگرچہ سٹانس بدلنے میں مجھے کچھ دشواری ہوئی لیکن بعد میں عادی ہو گیا اور مجھے تیز بولرز کو کھیلنے کے لیے کافی وقت مل گیا۔ زیڈ بھائی کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے میرے کیریئر کے بعد کے دن بہترین ثابت ہوئے۔‘

ظہیر عباس بھی کمال انسان ہیں کہ وہ اس سے پہلے اس قسم کا احسان محمد اظہرالدین پر بھی کر چکے تھے۔

سنہ 1989 کے دورہ پاکستان میں ہی انڈین بلے باز محمد اظہرالدین کو بیٹنگ میں مسائل کا سامنا تھا۔ بلے پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ انہوں نے بھاری بلا آزما کر دیکھ لیا۔ موٹی گرپ کا تجربہ کر لیا، لیکن بات بنی نہیں۔ اس موقعے پر ظہیر عباس ان کی رہنمائی کے لیے آگے آئے۔

اظہرالدین نے انہیں بتایا کہ شاٹ کھیلتے ہوئے بلا ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ ظہیر عباس نے انہیں سکھایا کہ کس انداز میں بلا پکڑنا چاہیے۔ انہیں آزمائشی طور پر گیندیں بھی کروائی گئیں۔ اظہر کو نئے طریقے سے بلے کو گرپ کرنے میں دشواری ہو رہی تھی اور ان کے دائیں ہاتھ کو تکلیف بھی پہنچی پر انہوں نے ظہیر عباس کے مشورے پر عمل کا فیصلہ کیا جس کے ثمرات جلد انہیں مل گئے۔

فیصل آباد ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی دفعہ غیرملکی سرزمین پر سینچری بنائی، اس کے بعد سیریز میں 2 نصف سینچریاں اسکور کیں، سیریز کے بعد وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گیے۔

عمران خان کی صحت کے بارے میں ان کے کرکٹ قبیلے کے سابق غیر ملکی پردھانوں کی فکر مندی اور اپنوں کے سکوت سے بات مختلف رستوں سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے جسے سمیٹنے سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ ٹھیک ہے کرکٹ کو سیاست سے پاک اور کرکٹرز کو سیاست سے دور رہنا چاہیے لیکن ان دونوں باتوں پر عمل پیرا ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیل میں قید ایک عظیم کھلاڑی کی صحت سے غفلت برتے جانے پر احتجاج نہ کر سکیں۔

14 کپتانوں کا مشترکہ خط بے حسی کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پھینکا گیا وہ پتھر ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی کرکٹر نہ سہی دوسرے خطوں کے کرکٹر کسی کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔

یہ خط میرے خیال میں سیاست اور کرکٹ کی تاریخ میں منفرد دستاویز کی صورت میں زندہ رہے گا اور آئندہ کسی کھلاڑی سے کھیل کے میدان سے باہر ہونے والی ناانصافی پر آواز اٹھانے کے لیے ایک مثال کا کام دے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان