انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقعے پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں کے بتدریج محدود ہوتے دائرے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرگیا
سیمینار کی صدارت معروف انسانی حقوق کے کارکن اور آئی اے پی ایس ڈی کے سربراہ سردار امجد یوسف نے کی جبکہ دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون اور نمائندگان نے انسانی حقوق کی صورتحال کے قانونی، سیاسی اور تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں رائج الوقت کالے قوانین جن میں پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق دیگر قوانین طویل المدتی حراست، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اور سکیورٹی اداروں کو استثنا دینا بنیادی حقوق پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے
مقررین نے طویل انٹرنیٹ بندش، نجی رابطہ جاتی ذرائع پر پابندیاں اور سماجی ذرائع ابلاغ کی نگرانی کو شہری سرگرمیوں اور آزاد صحافت کو محدود کرنے کا منظم طریقہ قرار دیا ۔اجلاس میں ذرائع ابلاغ کے اداروں پر دباؤ، صحافیوں کی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں بشمول خرم پرویز کے خلاف کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔حیاتیاتی شناختی نظام، چہرہ شناس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کو ایسے رجحانات کے طور پر بیان کیا گیا جو وسیع تر شہری آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز چسپاں
شرکا نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو جموں و کشمیر تک فوری، آزادانہ اور مؤثر رسائی دی جائے؛ پُرامن اختلافِ رائے کی بنیاد پر حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات کا جائزہ لے کر مناسب اقدام کیا جائے اور ریاستیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ’وندے ماترم‘ تقریبات کے حکومتی حکم پر متحدہ مجلس علما کا اعتراض
یاد رہے کہ یہ مذاکرہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا تاکہ کشمیری عوام کے شہری حقوق سے متعلق معاملات کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔














