امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کے مستقبل میں ایران کی قیادت سنبھالنے کے امکان پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ انہیں ملک کے اندر مطلوبہ حمایت حاصل ہے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’جن لوگوں کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر اب زندہ نہیں رہے‘۔ ان کا اشارہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی قیادت کی ہلاکتوں کی جانب تھا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ
65 سالہ رضا پہلوی نے خود کو عبوری حکومت کی قیادت کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 47 برس بعد ایران واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ’کچھ لوگ انہیں پسند کرتے ہیں‘ لیکن انتظامیہ نے اس معاملے پر زیادہ غور نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ان کا اپنا ملک ان کی قیادت کو قبول کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے اندر سے کوئی شخصیت زیادہ مناسب ہوگی، تاہم کسی نام کی نشاندہی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا عوامی بغاوت کا اعلان، تہران واپسی کی تیاری
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حالیہ حملوں میں مارے گئے تھے، جبکہ مزید اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
رضا پہلوی اس وقت امریکا میں مقیم ہیں اور رواں ماہ ٹیکساس میں ایک اہم قدامت پسند کانفرنس سے خطاب کریں گے۔














