وفاقی آئینی عدالت کا بڑا ریلیف، متوفی کوٹہ کیس میں بھرتیاں جاری رکھنے کی اجازت

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے متوفی کوٹہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور تمام 10 درخواست گزاروں کی تعیناتیاں جائز قرار دے دی۔

جسٹس عامر فاروق نے سندھ حکومت کے خلاف یہ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازم کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ کو قانونی حق فوراً حاصل ہو جاتا ہے اور درخواست دینا یا اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری ہونا محض انتظامی عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے محمد جلال کیس میں متوفی کوٹہ رول کے خاتمے کے فیصلے سے پہلے حقداروں کا حق پیدا ہو چکا تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ماضی پر لاگو نہیں ہوتے، اس لیے پرانے کیسز ماضی کے بند معاملات تصور ہوں گے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ لاڑکانہ نے پہلے متوفی کوٹہ کے تحت تقرریوں کے احکامات جاری کیے تھے، جنہیں وفاقی آئینی عدالت نے اب درست قرار دے دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp