حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز سے افغانستان کے موجودہ نظام سے وابستہ بعض علمی اور دینی شخصیات سوشل میڈیا پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال پر گفتگو کر رہی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس کشیدگی میں پہل کس جانب سے ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہوں اور بچوں کی بات کی جائے تو ایک لاکھ سے زائد پاکستانی دہشتگردی میں شہید ہو چکے ہیں اور ماضی میں سکولوں میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو حامد کرزئی کے دور کی بات کر رہے ہیں، نہ اشرف غنی کے دور کی اور نہ ہی ملا محمد عمر کے سابق دور کی، حالانکہ اس دور کے زخم بھی اب تک تازہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی
ان کے مطابق افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں صرف مساجد کے اندر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ وہ عوامی مقامات، فوج، پولیس یا سکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملوں کو اس میں شامل بھی نہیں کر رہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کے حل کے لیے دوست ممالک جیسے قطر، چین، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے بھی بارہا رابطہ کیا، مگر اس کے باوجود پاکستان کو کابل، جلال آباد اور قندھار سے دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
انہوں نے افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ان عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان کے ساتھ جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں، پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے: علامہ طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے علما نے تقریباً ایک ہزار علما پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی عبوری حکومت نے اس پر عمل کیا۔ اگر عمل نہیں ہونا تو پھر یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر بھارت اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کو نہ افغانستان کی حکومت، نہ اس کی زمین اور نہ ہی اس کے وسائل سے کوئی غرض ہے اور پاکستان افغانستان کو ایک آزاد ملک سمجھتا ہے۔
انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اعلان کریں کہ آئندہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور جو عناصر اس میں ملوث ہوں گے انہیں گرفتار کر کے سزا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کیخلاف مہم مسلم اُمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، علامہ طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں امن قائم کرنا ہے تو عالم اسلام کے علما پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جو اس معاملے کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرے۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ میں علما کو جمع کر کے اس بات کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی شرعی، اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جائز ہے یا نہیں۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان اب واضح کر چکا ہے کہ اگر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنی حفاظت کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے اور خطے میں امن قائم ہو۔













